پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک: ایچ آر سی پی کی سالانہ رپورٹ برائے 2025 جاری

 

HRCP Pakistan annual report 2025

اسلام آباد/لاہور: انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے اپنی سالانہ رپورٹ " انسانی حقوق کی صورتِحال 2025" جاری کر دی ہے، جس میں ملک میں آئینی ضمانتوں اور زمینی حقائق کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سال 2025 کے دوران شہری آزادیوں، عدلیہ کی آزادی اور اظہارِ رائے پر سخت قدغنیں دیکھی گئیں

خواتین، بچے اور اقلیتیں معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے سال 2025 انتہائی مشکل رہا۔ پولیس ڈیٹا کے مطابق کم از کم 470 خواتین 'غیرت' کے نام پر قتل ہوئیں جبکہ 3,815 ریپ کیسز رپورٹ ہوئے ۔ بچوں کے خلاف تشدد کے 3,600 سے زائد کیسز سامنے آئے۔ یونیسیف کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پاکستان میں ایک کروڑ بچے غذائی قلت کی وجہ سے جسمانی نشونما میں کمی کا شکار ہیں ۔ اقلیتوں کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ جڑانوالہ میں 2023 میں مسیحی بستوں اور گرجا گھروں کو جلائے جانے کے واقعات کے بعد ابھی تک مقامی مسیحی افراد کے نقصانات کا اذالہ نہیں کیا گیا۔

 احمدیہ برادری کی عبادت گاہوں پر حملوں اور ہندو اور مسیحی نا بالغ لڑکیوں کے مبینہ زبردستی مذہب کی تبدیلی کے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔

عدلیہ کی آزادی اور قانون سازی رپورٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کو عدلیہ کی آزادی پر ایک بڑا حملہ قرار دیا گیا ہے اس ترمیم کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں لایا گیا اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے تقرر کا اختیار انتظامیہ اور پارلیمنٹ کو دے دیا گیا، جس سے عدالتی خود مختاری متاثر ہوئی ہے ۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے بھی اس ترمیم کے جمہوری اصولوں پر پڑنے والے اثرات پر تنقید کی ہے ۔

اظہارِ رائے پر پابندیاں اور میڈیا کی صورتحال سال 2025 میں اظہارِ رائے کی آزادی کو سب سے زیادہ دبایا گیا۔ پیکا قانون میں عجلت میں کی گئی ترامیم کو صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو خاموش کرانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا گیا ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میڈیا ہاؤسز پر مالی دباؤ ڈالا گیا اور کئی صحافیوں کو ہراساں کیا گیا یا انہیں لاپتہ کر دیا گیا ۔ پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان کا درجہ مزید چھ درجے گر کر 158 تک پہنچ گیا ہے

امن و امان اور جبری گمشدگیاں رپورٹ کے مطابق پاکستان میں عسکریت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں سال بھر میں 3,417 ہلاکتیں ہوئیں ۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ۔ پنجاب میں مبینہ پولیس مقابلوں میں 977 مشتبہ افراد مارے گئے، جس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے احتسابی نظام پر سوالات اٹھائے ہیں ۔ جبری گمشدگیوں کے حوالے سے کمیشن کو 273 نئے کیسز موصول ہوئے، تاہم ایچ آر سی پی کا موقف ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے

اقتصادی و سماجی حقوق بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری نے عوام کے معاشی حقوق کو بری طرح متاثر کیا۔ پاکستان میں بیروزگاری کی شرح 7.1 فیصد تک پہنچ گئی، جو کہ 21 سال کی بلند ترین سطح ہے۔ تعلیم کے شعبے میں اب بھی ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو کہ ریاست کی ایک بڑی ناکامی ہے

ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن اسد اقبال بٹ نے رپورٹ کے اختتام پر زور دیا کہ وفاقی جمہوریت اور اداروں کے احتساب کو یقینی بنانے کے لیے ابھی ایک طویل سفر طے کرنا باقی ہے تاکہ ہر شہری وقار کے ساتھ زندگی گزار سکے

 

Web Desk

ہر نیوز انٹرنیٹ کی دُنیا میں ہر خبر کو اردوپڑھنے اور بولنے والوں کے لیے بروقت فراہم کرتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی