پنجاب حکومت نے 18 سال کے طویل وقفے کے بعد لاہور میں بسنت کے تہوار کی واپسی کا اعلان کیا ہے، جو شہر کی ثقافتی شناخت کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ یہ تہوار 6 فروری سے 8 فروری 2026 تک منایا جائے گا، اور اسے "سیف بسنت" کا نام دیا گیا ہے۔ تاہم، ماضی کی حادثاتی اموات کو مدنظر رکھتے ہوئے سخت قوانین اور حفاظتی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں، جبکہ ناقدین اسے اب بھی خطرناک قرار دے رہے ہیں۔
تہوار کی تاریخ اور اہمیت
بسنت، جسے بہار کے آغاز کا تہوار بھی کہا جاتا ہے، لاہور کی قدیم روایت ہے جہاں لوگ پتنگیں اڑاتے، موسیقی سنتے اور روایتی کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ 2005 میں سپریم کورٹ نے شیشے کی لیپ والی ڈور سے ہونے والی اموات کی وجہ سے اس پر پابندی عائد کی تھی، جس میں 19 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ اب پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں یہ تہوار محدود پیمانے پر واپس لایا جا رہا ہے، تاکہ ثقافت کو زندہ رکھا جائے اور سیاحوں کو راغب کیا جائے۔
کب اور کتنی دیر تک ہو گی؟
بسنت 2026 کا آغاز 6 فروری کو ہو گا اور یہ 8 فروری تک جاری رہے گی، یعنی مجموعی طور پر تین دن۔ پتنگ بازی صرف لاہور ڈسٹرکٹ میں ان تاریخوں پر کی جا سکے گی، اور اس سے پہلے یا بعد میں پابندی برقرار رہے گی۔ لاہور کمشنر مریم خان کا کہنا ہے کہ 6 فروری سے پہلے پتنگ بازی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
قوانین و ضوابط کیا ہیں؟
حکومت نے پتنگ بازی کو محفوظ بنانے کے لیے سخت قوانین متعارف کرائے ہیں۔ پنجاب اسمبلی نے ایک آرڈیننس منظور کیا ہے جس کے تحت
صرف رجسٹرڈ پتنگیں اور کاٹن کی ڈور استعمال کی جا سکتی ہے۔
ڈور میں زیادہ سے زیادہ 9 تار (تھریڈز) ہو سکتے ہیں، اور شیشے کی لیپ، کیمیکل یا دھاتی ڈور پر مکمل پابندی ہے۔
تمام پتنگیں اور ڈور پر بارکوڈ یا کیو آر کوڈ لازمی ہے تاکہ ٹریکنگ کی جا سکے۔
غیر رجسٹرڈ سیلرز پر قانونی کارروائی ہو گی۔
موٹر سائیکلوں پر حفاظتی وائر یا راڈ لازمی ہے، اور تین دنوں کے دوران موٹر سائیکلوں کا استعمال مکمل طور پر ممنوع ہے۔
تنگ بازی باقی پنجاب میں ممنوع رہے گی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے خبردار کیا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی پر سنگین سزائیں دی جائیں گی، کیونکہ "یہ مذاق نہیں، انسانی جانوں کا معاملہ ہے"۔
حفاظتی اقدامات کیا کیے گئے ہیں؟
تہوار کو محفوظ بنانے کے لیے جامع پلان تیار کیا گیا ہے
پانچ ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
پبلک ٹرانسپورٹ مفت دستیاب ہو گی تاکہ لوگ موٹر سائیکلوں سے گریز کریں۔
تمام محکمے، ضلعی انتظامیہ اور پولیس مل کر کام کریں گے۔
ڈور کی وجہ سے ہونے والے حادثات کو روکنے کے لیے سخت نگرانی ہو گی، اور حال ہی میں ایک موٹر سائیکل سوار کے گلے پر ڈور سے زخمی ہونے کا واقعہ پیش آنے کے باوجود ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
لاہور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اٹھائے گئے ہیں تاکہ تہوار خوشگوار رہے۔
ناقدین کیا کہتے ہیں؟
بسنت کی واپسی پر عوام تقسیم ہے۔ ایک طرف لوگ اسے ثقافتی بحالی قرار دے رہے ہیں، تو دوسری طرف ناقدین حفاظتی خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ میں تہوار کی نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیا ہے، جہاں دلائل دیے جا رہے ہیں کہ سخت قوانین کے باوجود خطرات موجود ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی میں پابندی کی وجہ بننے والے حادثات دوبارہ ہو سکتے ہیں، اور یہ تہوار "جشن سے زیادہ خطرہ" ہے۔ الجزیرہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ پابندی کو بعض لوگ ناانصافی قرار دیتے ہیں، لیکن حفاظت کو ترجیح دینے والے اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ حکومت کے اندر بھی بسنت کی اجازت پر تنازع ہے، جہاں کچھ افسران اسے روکنا چاہتے ہیں۔
تاہم، حکومت کا دعویٰ ہے کہ نئے قوانین سے خطرات کم سے کم ہو جائیں گے، اور یہ تہوار لاہور کی معیشت اور سیاحت کو فروغ دے گا۔
بسنت 2026 کی تیاریاں زوروں پر ہیں، اور شہریوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ قوانین کی پابندی کریں تاکہ یہ تہوار خوشیوں کا سبب بنے، نہ کہ افسوس کا۔
