پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد کے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں 26 اگست 2026 کو پیش آنے والی/ المناک آتشزدگی کے دوران ایک نرس نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایک نومولود بچے کی زندگی بچائی۔
نرس رضیہ نورین کی اس جرات مندانہ کارروائی نے انہیں قومی ہیرو کا درجہ دے دیا ہے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے خود ان سے ملاقات کر کے ان کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
واقعے کے مطابق 26 اگست کی صبح نوزائیدہ بچوں کے نرسری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اس وقت وارڈ میں 15 نومولود بچے موجود تھے جن میں سے 14 بچے آگ اور دھوئیں کی وجہ سے جاں بحق ہو گئے۔ صرف ایک بچہ بچ سکا جسے نرس رضیہ نورین نے بچایا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق رضیہ نورین نے آگ دیکھتے ہی فوری طور پر نرسری میں داخل ہو کر بچے کو گود میں اٹھا کر باہر نکال لیا۔ وہ تقریباً آٹھ سیکنڈ تک کمرے میں رہیں اور بچے کو محفوظ جگہ پر پہنچانے کے بعد دوبارہ اندر جانے کی کوشش کی مگر آگ اور دھوئیں کی شدت کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔
رضیہ نورین نے بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان بچوں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں صرف ایک بچے کو بچانے پر افسوس ہے اور وہ چاہتی تھیں کہ باقی بچوں کو بھی بچا سکیں۔ ان کے مطابق وہ صرف اپنا فرض ادا کر رہی تھیں اور ماں ہونے کا احساس انہیں اس اقدام پر مجبور کر گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے کے بعد رضیہ نورین سے ملاقات کی اور ان کی جرات و بہادری کو سراہا۔ وزیراعظم نے انہیں ستارہ خدمت کا اعزاز اور ایک کروڑ روپے انعام دینے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ رضیہ نورین نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایک معصوم کی زندگی بچائی جو قوم کے لیے قابل فخر ہے۔
اس واقعے کی تحقیقات میں پمز ہسپتال میں فائر سیفٹی کے سنگین نقصانات سامنے آئے جن میں فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم کی عدم موجودگی شامل ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں آٹھ اعلیٰ افسران کو معطل کر کے ان کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم دیا ہے۔
رضیہ نورین کی اس کارروائی کو سوشل میڈیا اور میڈیا حلقوں میں بھرپور سراہا جا رہا ہے۔ انہیں نہ صرف سرکاری سطح پر اعزاز دیا جا رہا ہے بلکہ عوام بھی انہیں قوم کی بہادر بیٹی قرار دے رہے ہیں۔ پمز کی آتشزدگی کا یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ کے المناک ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے جس میں 14 معصوم نومولود اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے مگر رضیہ نورین کی ہمت نے ایک زندگی کو موت کے منہ سے نکال لیا۔