چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ (غزل ۔ مصطفی زیدی )

Urdu Poet Mustafa Zaidi
مصطفی زیدی
غزل 

(مصطفی زیدی)


 چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ

ہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہ


ابھی تاروں سے کھیلو چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ

ملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ


دریچوں کو تو دیکھو چلمنوں کے راز تو سمجھو

اٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ


زمانے بھر کی کیفیت سمٹ آئے گی ساغر میں

پیو ان انکھڑیوں کے نام پر آہستہ آہستہ


یوں ہی اک روز اپنے دل کا قصہ بھی سنا دینا

خطاب آہستہ آہستہ نظر آہستہ آہستہ


Web Desk

ہر نیوز انٹرنیٹ کی دُنیا میں ہر خبر کو اردوپڑھنے اور بولنے والوں کے لیے بروقت فراہم کرتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی