حضرت مسیح کے بارہ شاگروں (حواریوں) میں سے
ایک، " توما" نامی شاگرد کے بارے میں ایک پرانی روایت
ہے کہ وہ پہلی صدی میں موجودہ پاکستان اور جنوبی ہندوستان کے علاقوں میں آئے
تھے۔ صدیوں سے یہ بات مسیحی تاریخ اور روایات کا حصہ سمجھی جاتی رہی ہے۔ اس
روایت کا مرکز پاکستان کا قدیم شہر ٹیکسلا اور اس وقت کا حکمران گنڈافرس ہے۔
اس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ کیا واقعی حضرت توما ٹیکسلا آئے تھے، یا یہ صرف ایک
پرانی کہانی ہے۔ اس مقصد کے لیے ہم تاریخی کتابوں، روایات اور آثار قدیمہ کے شواہد
کا جائزہ لیں گے۔
توما کا تعارف
توما جنہیں
انگریزی زبان میں" تھامس "بھی کہا جاتا ہے ، حضرت
مسیح کے بارہ شاگردوں میں سے تھے۔ توما کا مسیحیوں کی
مقدس کتاب "بائیبل" کی چاروں اناجیل میں ذکر
ملتا ہے ۔ مگر یوحنا کی انجیل میں وہ ایک ایسے شاگرد کے طور پر سامنےآتے ہیں
جو سوال کرنے اور ثبوت مانگنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ وہ حضرت مسیح کے
دوبارہ زندہ ہونے کا یقین کرنے سے پہلےخود مسیح کے ہاتھوں اور پاؤں میں
کیلوں کے سوراخوں میں انگلی ڈال کر یقین کرنا چاہتے تھے۔ کہ یہ زندہ
مسیح وہی ہےجسے کیلوں سے سولی پہ جڑ دیا گیا تھا۔ اسی وجہ سے اکثر
توما کو "شکی توما " بھی کہا جاتاہے ۔
اعمالِ توما ۔ ایک تاریخی کتاب
حضرت توما کے ہندوستان کے سفر کی سب سے مفصل ماخذ کتاب
اعمالِ توماّ ہے ۔
یہ کتاب تیسری صدی میں میسوپوٹامیہ
کے شہر ادیسہ (موجودہ شام) میں سریانی زبان میں تحریر کی گئی۔
اس کتاب کا سب سےپرانا نسخہ
سینٹ کیتھرین خانقاہ ، مصر میں محفوظ ہے ۔ جو پانچوں صدی
کا ہے۔ اس کتاب کا ایک نسخہ برٹش لائبریری میں بھی موجود
ہے جو نویں صدی کا ہے ۔اگرچہ اس کتاب میں شامل کچھ داستانیں اور خیالات
مرکزی مسیحی عقائد سے میل نہیں کھاتے، اسی لیے اسے مذہبی اعتبار سے مکمل طور پر
مستند کتاب نہیں کہا جاتا، مگر تاریخی تحقیق کے میدان میں اس کی اہمیت برقرار
ہے۔ تقریباً سترہ سو سال سے دنیا کے مختلف اسکالرز اس کتاب کو قدیم
دور کے حالات، تجارت، سفر اور ابتدائی مسیحی تبلیغ کی سرگرمیوں کو
سمجھنے کے لیے ایک قیمتی ماخذ کے طور پر استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ اس لیے مذہبی طور
پر اختلاف کے باوجود، تاریخی معلومات کے حوالے سے یہ کتاب اب بھی ایک اہم دستاویز
کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس کتاب کے
ایک واقعہ میں لکھا ہے کہ حضرت ِمسیح نے آسمان پر صعود فرماتے وقت اپنے
شاگردوں کو حکم دیا کہ پوری دُنیا میں انجیل کا پیغام لے کر جائیں۔ اس
حکم کی تعمیل کرتے ہوئے شاگردوں نے قرعہ ڈال کر فیصلہ کیا کہ کون دُنیا کے
کس حصے میں جائے گا۔
ہندوستان توما کے حصے میں آیا۔ توما نے شروع میں
انکار کیا ۔ مگر خود یسوع المسیح نے خواب میں انہیں حکم دیا کہ وہ
ہندوستان جائیں۔ پھر وہ حبان نامی تاجر کے ہمراہ ایک لمبا بحری سفر کر کے گنڈافرس
بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوئے۔ کیونکہ توما ایک بڑھائی اور معمار بھی تھے تو
بادشاہ گنڈافرس نے انہیں ایک عالی شان محل تعمیر کرنے کے لیے ایک خطیررقم دی۔
توما نے وہ ساری رقم غربیوں میں خیرت کر دی۔ بادشاہ کو علم ہوا تو اس
نے توما سے دریافت کیا تو توما نے بادشاہ سے کہا کہ آپکا محل آسمان پر
تعمیر ہو گیا ہے۔ بادشاہ کو بہت غصہ آیا اور توما کو قید میں ڈال دیا۔ چند دنوں کے
بعد بادشاہ کا بھائی فوت ہو گیا۔ مگر چند گھنٹوں کے بعد دوبار زندہ ہوگا۔ اس نے
بتایا کہ اس نے آسمان پر ایک محل دیکھا ہے جو گنڈافرس کے لیے تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ
بات سن کر بادشاہ گنڈافرس حیران رہ گیا۔ بادشاہ نے
توما سے انجیل کی خوشخبری کو قبول کیا اور وہ اور اس کا بھائی خاندان سمیت
مسیحی ہو گئے۔
ٹیکسلا کا حکمران گنڈافرس
کئی صدیوں تک "اعمالِ توما" میں مذکور
بادشاہ گنڈافرس کو ایک افسانوی کردار سمجھا جاتا رہا۔مورخین کے پاس اِس نام کے کسی بادشاہ کا کوئی ٹھوس ثبوت
موجود نہیں تھا۔ لیکن انیسویں صدی کے اولائل میں ماہرین آثار ِ قدیمہ کو
پاکستان اور افغانستان کے علاقوں میں بڑی تعداد میں ایسے سکے ملے جن پر یونانی اور
خروشتی رسم الخط میں گنڈا فرس کا نام کندہ تھا۔ سکہ جات اور کتبوں پر مبنی تاریخی
شواہد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ گنڈافرس نے ہندو-پارتھی سلطنت کی بنیاد رکھی اور
شہرِ ٹیکسلا کو اپنا دارالحکومت مقرر کیا۔ یہ سلطنت موجودہ پاکستان کے صوبہ پنجاب
سے لے کر افغانستان کے علاقوں کابل و قندھار، نیز بلوچستان اور سندھ تک وسیع تھی۔
گنڈافرس نے یہ سلطنت عظیم پارتھی سلطنت سے علیحدہ ہو کر قائم کی، جو اُس وقت ایران
اور وسطی ایشیا کے وسیع خطے پر محیط تھی۔
![]() |
| گنڈافرس کے سکے |
تختِ بائی کی تختی
گنڈافرس کے دور حکومت کا سب سے
اہم اور ناقابل تردید ثبوت مردان شہر کے قریب تخت بھائی کے مقام سے ملنے والی ایک
پتھر کی تختی ہے۔ تختِ بائی، جو بدھ مت کی ایک قدیم خانقاہ ہے، کی کھدائی کے دوران
ملنے والی اس تختی پر کندہ تاریخ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گنڈافرس نے کم از کم 26
سال حکومت کی اور اس کا دورِ حکومت تقریباً 19 عیسوی سے 45 عیسوی تک تھا۔یہ تاریخ
حضرت توما کی ہندوستان آمد کے زمانے سے بالکل مطابقت رکھتی ہے۔ تختِ بائی سے
ملنے والی یہ تختی لاہو ر عجائب گھر میں محفوظ ہے ۔
![]() |
تخت بائی کی تختی |
سن ۱۹۳۵
میں ٹیکسلا کے علاقے سرکپ کے کھنڈرات کے قریب ایک
کسان کو اپنے کھیت میں ایک صلیب ملی۔ اس دور کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے اس صلیب کو
پہلی سے تیسری صدی عیسوی کے درمیان کا قرار دیا۔ اُس وقت راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر،
کٹبرٹ کنگ، نے اس صلیب کو نوادر کے طور پر لاہور کیتھیڈرل میں محفوظ کروا دیا،
جہاں یہ آج بھی آویزاں ہے۔
چرچ آف پاکستان 1970میں قائم ہوا تو اسی صلیب کے ڈیزائن کو چرچ
آف پاکستان کی علامتی صلیب کے طور پر اختیار کر لیا گیا۔ اس فیصلے کا ظاہری مقصد
یہ تھا کہ مسیحیت پہلی صدی ہی سے اس خطے میں موجود تھی۔ تاہم، بہت سے
اسکالرز اور ماہرین اس رائے سے متفق نہیں ہیں، کیونکہ پہلی اور دوسری صدی میں صلیب
کو بطور مذہبی نشان عام طور پر رائج نہیں کیا گیاتھا
یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ دنیا کی مختلف قدیم
تہذیبوں میں صلیب سے مشابہ علامات مسیحیت سے بہت پہلے استعمال ہوتی رہی ہیں۔ حتیٰ
کہ ٹیکسلا سے دریافت ہونے والے بعض قدیم سکے بھی ایسے نشانات کے حامل ہیں جو
مسیحیت سے قبل کے ادوار سے تعلق رکھتے ہیں۔
لہٰذا ٹیکسلا کی صلیب کو رسول توما کی ٹیکسلا میں
آمد اور اس خطے میں مسیحیت کی موجودگی کے حتمی ثبوت کے طور پر تو
نہیں، البتہ ایک قرینہ یا امکان کے طور پر کسی حد تک ضرور لیا جا
سکتا ہے۔
![]() |
ٹیکسلا سے دریافت ہونے والی صلیب۔ لاہور کتھیڈرل |
بائبل میں اعمال کی کتاب کے دوسرے باب میں،
عیدِپنتکست کے موقع پر پارتھیوں، مادیوں اور ایلامیوں سمیت دور دراز کے علاقوں سے
آئے ہوئے یہودیوں کا ذکر اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ پہلی صدی میں عیدوں اور
تہواروں کے موقع پر مختلف سلطنتوں میں پھیلی ہوئی یہودی قوم یروشلیم میں جمع ہوا
کرتی تھی۔ اگرچہ متن میں براہِ راست انڈو-پارتھی سلطنت یا ٹکسیلا کا نام نہیں
ملتا، تاہم یہ بعید از قیاس نہیں کہ انڈو-پارتھی خطے کے یہودی تاجر اور زائرین بھی
اس مذہبی اجتماع میں شامل ہو تے ہوں گے۔ ٹکسیلا اُس زمانے میں ایک معروف علمی و
تجارتی مرکز تھا، جو شاہراہِ ریشم کے ذریعے بابل اور ایران کے راستے یروشلیم سے
جڑا ہوا تھا۔ لہٰذا یہ ماننا معقول ہے کہ جس طرح دیگر پارتھی علاقوں سے یہودی
یروشلیم آ سکتے تھے، ویسے ہی ٹکسیلا سے بھی ان کا آنا ممکن تھا۔ یہی امکان اس دلیل
کو مضبوط کرتا ہے کہ پہلی صدی میں حضرت مسیح کے شاگرد توما کا ٹیکسلا آنا کوئی محض
افسانوی تصور نہیں بلکہ تاریخی پس منظر میں ایک معقول اور ممکنہ حقیقت ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ توما رسول نے یہ سفر سمندری راستے سے کیا۔
تاریخی
کتاب اعمالِ توما میں بھی توما کے سمندری سفر کا ذکر ہے ۔ اس نے اپنے
سفر کا آغاز مصر کے شہر اسکندریا سے کیا۔
بحیرہ احمر سے ہوتا ہو سکوترہ جزیرہ اور وہاں سے
ٹھٹھ کے ساحل پہنچا۔ دریا سندھ کے راستے اٹک اور آخر کار اپنی منزل ٹیکسلا
توما جنوبی ہندوستان میں
توما رسول کے بارے میں قدیم مسیحی روایات اور
تاریخی تذکرے اس بات پر متفق ہیں کہ ٹیکسلا میں اپنی تبلیغی ذمہ داری پوری کرنے کے
بعد وہ جنوب کی طرف روانہ ہوا۔ پہلی صدی عیسوی میں بحری راستے سے سفر کرنے والے
تاجروں اور مبلغین کے لیے ٹھٹہ (سندھ)، گجرات اور مغربی ساحل کی بندرگاہیں ایک
معروف تجارتی راستہ تھیں۔ انہی راستوں پر سفر کرتے ہوئے توما موجودہ بھارت کے جنوب
مغربی ساحل مالابار (کیریلا) پہنچے، جو اس دور میں عرب، رومی اور یہودی
تاجروں کی آمدورفت کا ایک بڑا مرکز تھا۔
روایات کے مطابق توما نے مالابار کے مختلف
شہروں—خصوصاً موزیرس میں تبلیغ کی اور وہاں ابتدائی مسیحی برادری کی بنیاد
رکھی۔ آج بھی جنوبِ ہند کے قدیم ترین چرچز، جنہیں "سینٹ تھامس چرچز" کہا
جاتا ہے، اپنی روایت میں یہی بتاتے ہیں کہ ان کی بنیاد توما رسول نے رکھی تھی۔
اپنے قیام کے دوران توما نے مقامی آبادی اور تاجر
برادری میں مسیحی پیغام کو فروغ دیا۔ تاہم اُن کی سرگرمیوں نے کچھ حلقوں میں
مخالفت بھی پیدا کی۔ قدیم سریانی اور ہندوستانی مسیحی روایات کے
مطابق توما آخرکار مدراس/چنئی کے علاقے میں
تبلیغ کے دوران مخالفین کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے۔ روایت ہے کہ انہیں نیزے
کے وار سے قتل کیا گیا، جس کے باعث وہ مسیحیت کی ابتدائی تاریخ میں ان مبلغین
میں شامل ہو گئے جنہوں نے اپنی جان دے کر اپنے عقیدے کی گواہی دی۔ یہ نیرہ آج میں
چنائی کے سینٹ تھامس چرچ میں محفوظ ہے۔
میلاپور کی ایک پہاڑی پر، آج بھی واقع ہے ۔ سینٹ تھامس ماؤنٹ
جہاں کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ توما نے اپنی
آخری عبادت کی اور اسی جگہ شہید ہوئے۔ بعد ازاں ان کی قبر صدیاں تک مسیحی زائرین
کے لیے زیارت گاہ بنی رہی۔ قرونِ واسطی کے مشہور سیاح مارکوپولو نے بھی سن
1295 میں میلاپور (کیرالا، انڈیا) توما رسول کے مزار کا دورہ کیا۔ اس
نے اپنی کتاب میں اس مزار اور اس کے اردگرد مسیحی آبادی کا ذکر کیا ہے ۔
یوں توما رسول کا سفر یروشلیم سے ٹیکسلا اور پھر
مالابار تک نہ صرف ابتدائی مسیحی تبلیغی سرگرمیوں کا ایک حیرت انگیز باب ہے، بلکہ
اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ پہلی صدی میں مذہبی پیغام اور ثقافتی روابط کس قدر
وسیع جغرافیے میں پھیل چکے تھے۔ ٹیکسلا کی تاریخ، گنڈافرس کے سکے، تخت بائی کی تختی
اور مالابار کی مسیحی روایات—یہ سب مل کر اس امکان کو مضبوط بناتے ہیں کہ توما کا
قدیم پاکستانی شہر ٹیکسلا تک پہنچنا محض ایک روایت نہیں بلکہ ایک قابلِ قبول
تاریخی حقیقت ہے۔
![]() |
| توما کو شہید کرنے والے نیزہ ، چنئی، بھارت |





