![]() |
| ماسکو کے ایک آرتھوڈکس چرچ کا منظر(Photo: Vladimir Chake) |
کرسمس کی دو تاریخیں: ایک معمہ یا روایت کا تحفظ؟
دنیا بھر میں بیشتر مسیحی 25 دسمبر کو حضرت مسیحی
کی پیدائش یعنی کرسمس مناتے ہیں، لیکن تقریباً 25 سے 30 کروڑ مسیحی — خاص طور پر
مشرقی آرتھوڈوکس چرچ سے تعلق رکھنے والے — اس تہوار کو 7 جنوری کو مناتے ہیں۔ یہ
کوئی اتفاقیہ یا الگ عقیدہ نہیں، بلکہ صدیوں پرانی کیلنڈر کی روایت کا نتیجہ ہے۔ یہ فرق جولین اور گریگورین کیلنڈر کی وجہ سے ہے
۔
جولین اور گریگورین کیلنڈر کا فرق
مسیحیت کے ابتدائی دور میں تمام چرچ ایک ہی
کیلنڈر یعنی جولین کیلنڈر استعمال کرتے تھے ۔ یہ کیلنڈر رومی شہنشاہ جولیئس سیزر
نے 46 قبل ازمسیح میں متعارف کرایا تھا۔ یہ کیلنڈر شمسی سال
سے تھوڑا لمبا تھا، یعنی ہر 128 سال بعد تقریباً ایک دن پیچھے رہ جاتا تھا۔سولہویں صدی تک یہ فرق دس دن تک پہنچ گیا تھا۔
کیتھولک چرچ کے پوپ گریگوری نے 1582سن میں ایک نیا اور درست کیلنڈر متعارف کرایا۔ جسے گریگورین کیلنڈر کہا جاتا ہے
اس نے کیلنڈر کو شمسی سال کے قریب تر کیا اور 10 دن شامل کر کے اصلاح کی۔ آج کے دور میں دنیا کا بیشتر حصہ (بشمول
پاکستان، بھارت، یورپ، امریکہ) یہی گریگورین کیلنڈر استعمال کرتا ہے۔ مگر مشرقی آرتھوڈوکس چرچ (خاص طور پر روسی، سربیائی،
جارجیائی، یروشلم، اور کچھ دیگر) نے اس تبدیلی کو قبول نہیں کیا۔
انہوں نے پرانے جولین
کیلنڈر کو برقرار رکھا ۔ وہ اسے چرچ کی قدیم روایت اور تاریخ سے جوڑتے ہیں۔
آج جولین کیلنڈر گریگورین کیلنڈر سے 13 دن پیچھے
ہے۔ اس لیے جب آرتھوڈوکس چرچ 25 دسمبر
(جولین کیلنڈر کے مطابق) مناتا ہے تو یہ گریگورین
کیلنڈر میں 7 جنوری بن جاتا ہے۔
کون سے آرتھوڈوکس چرچ جنوری میں کرسمس مناتے ہیں؟
روسی آرتھوڈوکس چرچ (دنیا کا سب سے بڑا آرتھوڈوکس
گروہ) کاپٹک آرتھوڈوکس (مصر)
سربیائی، جارجیائی، یروشلم،
مونٹی نیگرو، مقدونیہ کے آرتھوڈوکس چرچ
بائبل میں حضرت مسیحی کی پیدائش کا کوئی مخصوص دن
نہیں بتایا گیا۔ 25 دسمبر کو منتخب کرنے کی وجہ بھی تاریخی طور پر پوری طرح واضح
نہیں
آرتھوڈوکس چرچ کا موقف ہے کہ اصل تاریخ سے زیادہ اہم تہوار کی روح اور
روایت ہے، نہ کہ کیلنڈر
کی جدید اصلاح
یہ تاریخوں کا یہ فرق مسیحی مذہب کی تنوع اور
تاریخی روایات کو ظاہر کرتا ہے — ایک ہی تہوار، دو مختلف کیلنڈر، مگر عقیدہ ایک ہی
۔
