لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے بشپ آف لاہور کے انتخاب سے متعلق کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے چرچ آف پاکستان کی جانب سے دائر کردہ 'انٹرا کورٹ اپیل' خارج کر دی ہے۔ عدالت نے سنگل بینچ کے سابقہ فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے بشپ کے انتخاب کو غیر آئینی قرار دیا ہے اور نئے سرے سے شفاف انتخابات کرانے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالتی
کارروائی اور بینچ
اس اہم کیس کی سماعت جسٹس احمد ندیم ارشد اور جسٹس ملک وقار حیدر اعوان
پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ
سناتے ہوئے قرار دیا کہ لاہور ڈائوسیسن کونسل کے بشپ کا انتخابی عمل قانونی تقاضوں
کو پورا نہیں کرتا تھا۔
کیس
کا پس منظر
یہ قانونی تنازعہ جنوری
2023 میں ہونے والے بشپ آف لاہور کے انتخابات سے شروع ہوا تھا۔ رجسٹرار جوائنٹ
سٹاک کمپنیز نے 11 اگست 2023 کو ان انتخابات کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا
تھا۔ اس فیصلے کے خلاف پہلے رٹ پٹیشن دائر کی گئی جسے سنگل بینچ نے خارج کر دیا
تھا، جس کے بعد چرچ آف پاکستان لاہور ڈائوسیسن کونسل نے ڈویژن بینچ میں انٹرا کورٹ
اپیل دائر کی تھی۔
رجسٹرار
کے فیصلے کی توثیق
عدالت عالیہ نے اپنے
فیصلے میں رجسٹرار جوائنٹ سٹاک کمپنیز کے موقف کو درست قرار دیا۔ رجسٹرار نے اپنی
تحقیقات میں درج ذیل بے ضابطگیاں پائی تھیں:
- انتخابی
عمل رجسٹرڈ آئین کے مطابق نہیں تھا۔
- الیکٹورل
باڈی (ووٹرز کی فہرست) کی تشکیل میں بے قاعدگی تھی۔
- الیکشن
کے قواعد و ضوابط کا فقدان اور میٹنگ منٹس میں غلط بیانی کی گئی تھی۔
عدالت
کا اہم مشاہدہ
دوران سماعت اپیل
کنندگان کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ رجسٹرار کے پاس ایسے احکامات جاری کرنے کا
اختیار نہیں تھا۔ تاہم، عدالت نے اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ
چونکہ چرچ آف پاکستان لاہور ڈائوسیسن کونسل 'سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860' کے تحت
رجسٹرڈ ہے، اس لیے اس کے داخلی انتخابات اور رجسٹریشن سے متعلق معاملات رجسٹرار کے
دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
حتمی
فیصلہ
عدالت نے قرار دیا کہ
سنگل جج کا فیصلہ اور رجسٹرار کا حکم قانون کے عین مطابق ہے۔ اب چرچ انتظامیہ کو
پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے رجسٹرڈ آئین کے مطابق بشپ آف لاہور کے نئے انتخابات
کا انعقاد کرے۔
