کراچی، 19 جنوری 2026 – پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے مصروف ترین کمرشل علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع مشہور شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں ہفتہ کی رات تقریباً 9:45 سے 10:15 بجے کے درمیان لگنے والی شدید آگ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ آتشزدگی اتنی خوفناک ثابت ہوئی کہ اس نے نہ صرف سینکڑوں دکانیں تباہ کر دیں بلکہ متعدد انسانی جانیں بھی لے لیں اور درجنوں افراد کو لاپتہ کر دیا۔
حکام کے مطابق آگ کی ابتدا ممکنہ طور پر فالٹی سرکٹ بریکر یا الیکٹریکل شارٹ سرکٹ سے ہوئی۔ پلازہ میں تقریباً 1200 دکانیں موجود تھیں جن میں پلاسٹک کی اشیا، پرفیومز، کیمیکلز اور دیگر انتہائی آتش گیر مواد بڑی مقدار میں رکھا ہوا تھا۔ آگ تیزی سے پھیل گئی اور گھنے دھوئیں کی وجہ سے عمارت کے اندر موجود افراد کے لیے باہر نکلنا تقریباً ناممکن ہو گیا۔
زخمی: 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں سے کئی کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
سانحے کی تفصیلات
ہلاکتوں کی تعداد: تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کم از کم *14 سے 15 افراد* جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے۔
لاپتہ افراد: 60 سے 73 کے قریب افراد ابھی تک لاپتہ ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے سے لاشیں اور اعضاء برآمد کر رہی ہیں۔
عمارت کا نقصان: آگ کی شدت سے عمارت کا پچھلا حصہ اور کچھ دیگر حصے منہدم ہو گئے۔ عمارت کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے کیونکہ مزید گرنے کا خطرہ برقرار ہے۔
فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122، پولیس اور دیگر ایمرجنسی سروسز نے 20 سے زائد فائر ٹینکرز، سنارکل مشینری اور واٹر باؤزرز کے ساتھ 36 گھنٹے سے زائد وقت تک آپریشن جاری رکھا۔ اتوار کی شام تک آگ پر تقریباً قابو پا لیا گیا تھا لیکن مکمل طور پر بجھانے میں مزید وقت لگا۔ پیر کی صبح تک محدود سرچ اور ریکوری آپریشن جاری ہے۔
لواحقین کی بدحالی
سانحے کے بعد ایم اے جناح روڈ پر لواحقین کی بھیڑ لگ گئی۔ بہت سے لوگ اپنے پیاروں کے آخری فون کالز اور میسجز پر انگلی رکھ کر رو رہے ہیں۔ ایک خاتون نے بتایا کہ ان کا بیٹا دکان پر تھا اور آخری کال میں کہہ رہا تھا "بہت دھواں ہے، سانس نہیں لے پا رہا"۔ دوسری جانب کچھ لوگ اب بھی امید کے ساتھ انتظار کر رہے ہیں کہ شاید کوئی زندہ مل جائے۔
حکام کے بیانات
سندھ کے وزیراعلیٰ نے جاں بحق افراد کے خاندانوں کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔اور کہا کہ گل پلازہ کی عمارت دوبارہ بنائی جائے گی۔
ایڈیشنل آئی جی** نے کہا کہ واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں اور یہ حادثہ ہے یا کسی تخریب کاری کا نتیجہ، جلد واضح ہو جائے گا۔
- **میئر کراچی اور دیگر حکام نے پلازہ کی پرانی تعمیر، ناقص وینٹیلیشن، فائر سیفٹی کے فقدان اور غیر قانونی مواد کو اس سانحے کی بڑی وجوہات قرار دیا۔
یہ واقعہ بلدیا فیکٹری کے بعد کراچی کے عوام کے لیے ایک اور کرب ناک یاد بن گیا ہے۔ شہر میں پہلے بھی آتشزدگیوں کے سانحات رونما ہو چکے ہیں، مگر افسوس کہ فائر سیفٹی کے سخت قوانین پر عمل درآمد اب بھی ناکافی ہے۔بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ واقع چند دنوں میں بھلا دیا جائے گا۔پھر جب کوئی نیا واقعہ رونما نہیں ہو گا۔ تب تک کوئی بات نہیں ہو گی۔
Tags:
Business
