پنجاب اسمبلی میں اقلیتی املاک کے تحفظ کا بل 2026 : چند گزارشات

 

Falbous Christopher MPA minorities
ایم پی اے فیلبوس کرسٹوفر (Image @facebook)

لاہور (نیوز ڈیسک) پنجاب میں اقلیتی برادریوں، خصوصاً مسیحی مشنری اداروں کی اربوں روپے کی املاک کو قبضوں اور غیر    قانونی فروخت سے بچانے کے لیے ایک اہم قانونی قدم اٹھایا گیا ہے۔ اقلیتی رکن پنجاب اسمبلی 

 فیلبوس کرسٹوفر نے "پنجاب پروٹیکشن آف کمیونل پراپرٹیز آف مائنارٹیز بل 2026" اسمبلی میں پیش کر دیا ہے، جس کا مقصد اقلیتی برادریوں کی مذہبی، تعلیمی اور سماجی املاک کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے ۔

:بل کے اہم نکات اور سزائیں

کمیونل پراپرٹی کی تعریف: اس میں نہ صرف چرچ، مندر اور قبرستان شامل ہیں بلکہ اقلیتی برادریوں کے زیر انتظام اسکول، اسپتال، کمیونٹی سینٹرز اور تجارتی مراکز بھی شامل ہوں گے جو عوامی عطیات یا غیر ملکی امداد سے بنے ہوں۔

 صوبائی ایکشن کمیٹی کا قیام: بل کے تحت ایک "صوبائی ایکشن کمیٹی" تشکیل دینے کی تجویز ہے جس کا چیئرپرسن اقلیتی ایم پی اے ہوگا۔ اس کمیٹی میں ہوم ڈیپارٹمنٹ، ریونیو بورڈ اور پولیس کے اعلیٰ افسران  شامل ہو ں گے۔ 

غیر قانونی فروخت پر پابندی: حکومت کی اجازت اور کمیٹی کی سفارش کے بغیر ایسی کسی بھی جائیداد کی خرید و فروخت یا لیز قانونی طور پر کالعدم تصور ہوگی۔

انفرادی قبضے کا خاتمہ: بل کے سیکشن 8 کے تحت ایسی تمام املاک جو کسی فرد یا عہدیدار کے ذاتی نام پر رجسٹرڈ ہیں، انہیں 6 ماہ کے اندر متعلقہ ٹرسٹ یا کمیونل باڈی کے نام منتقل کرنا لازمی ہوگا۔

تجزیہ کاروں اور کمیونٹی رہنماؤں نے بل کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم کمیٹی کی ساخت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ موجودہ مسودے میں ہوم سیکرٹری، قانون سیکرٹری اور پولیس حکام جیسے بیوروکریٹس کی شمولیت تجویز کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کمیٹی کو بیوروکریسی کے چنگل سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں اقلیتی برادری کے منتخب نمائندوں، ماہر قانون دانوں اور سول سوسائٹی کی تعداد بڑھائی جائے۔

کمیٹی کو محض مشاورتی ادارہ بنانے کے بجائے سمری ٹرائل اور فوری بے دخلی کے اختیارات دیے جائیں۔

 سیکشن 5 کے تحت ریکارڈ کی تیاری میں تمام مشنری املاک کی "جیو ٹیگنگ" اور ایک آن لائن  پبلک پورٹل کا  قیام لازمی قرار دیا جائے تاکہ کوئی بھی شخص دھوکے سے ایسی پراپرٹی خرید یا بیچ نہ سکے۔

اقلیتی املاک اکثر سو سال سے پرانی ہیں۔ بل میں ایسی قدیم عمارات کو "تاریخی ورثہ" کا درجہ دینے اور ان کی بنیادی ساخت میں تبدیلی پر پابندی کی شق شامل ہونی چاہیے۔

 سیکشن 6 میں یہ واضح کیا جائے کہ اگر حکومت سیل کی اجازت دے بھی، تو حاصل ہونے والی رقم صرف اسی کمیونٹی کے فلاحی کاموں کے لیے استعمال ہوگی اور اس کا آڈٹ لازمی ہوگا۔

کسی بھی جائیداد کی فروخت سے قبل اس علاقے کی برادری کی "عوامی سماعت"  لازمی قرار دی جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

صوبائی ایکشن کمیٹی کی بہتر کارکردگی کے ضروری ہے کہ اس کے لیے خصوصی سیکرٹیریٹ کے قیام اور فنڈز مختص کیے جائیں اور انہیں قانونی  تحفظ حاصل ہو۔ 


یہ بل اس وقت پنجاب اسمبلی میں زیر غور ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے اقلیتی برادریوں کے دیرینہ تحفظات دور کرنے میں مدد ملے گی۔

Web Desk

ہر نیوز انٹرنیٹ کی دُنیا میں ہر خبر کو اردوپڑھنے اور بولنے والوں کے لیے بروقت فراہم کرتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی