پاک فوج کے سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ، جو 2016 سے 2022 تک فوج کی کمانڈ سنبھال چکے ہیں، اپنی رہائش گاہ پر گرنے کے نتیجے میں زخمی ہو کر کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) راولپنڈی میں زیر علاج ہیں۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اس کی سرکاری تصدیق کر دی ہے۔آئی ایس پی آر کے جاری بیان کے مطابق جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو اپنے گھر میں گرنے سے چوٹ آئی، جس کے بعد انہیں فوری طور پر سی ایم ایچ منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ یہ واقعہ بیت الخلا میں پھسلنے کی وجہ سے پیش آیا، جس سے سر پر چوٹ لگی۔ سابق آرمی چیف کے بہنوئی نعیم گھمن نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام میں بتایا کہ جنرل صاحب ننگے پاؤں تھے اور پھسلنے سے سر پر زخم آیا، تاہم تمام ٹیسٹ مکمل ہو چکے ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔فیملی ذرائع کے حوالے سے کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واقعہ دل کے برقی نظام میں خرابی (کارڈیک ایشو) کی وجہ سے بے ہوش ہونے سے پیش آیا، جس کے بعد وہ گر پڑے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ کھوپڑی میں تین باریک فریکچرز ہیں لیکن دماغ میں کوئی سنگین خون کا لوتھڑا نہیں پایا گیا۔ خوش قسمتی سے علاج کے بعد ان کی صحت میں بہتری آ رہی ہے اور وہ مکمل ہوش میں ہیں۔ ان کے دونوں بیٹے بھی پاکستان پہنچ کر والد کے ساتھ اسپتال میں موجود ہیں۔آئی ایس پی آر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جنرل باجوہ کی صحت کے حوالے سے افواہوں اور غیر مصدقہ معلومات سے گریز کریں اور ان کی طبی رازداری کا احترام کریں۔ مختلف ذرائع کے مطابق سابق آرمی چیف انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) میں ہیں لیکن ان کی حالت مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔یہ واقعہ پاکستانی عوام اور سیاسی حلقوں میں تشویش کا باعث بنا ہے۔ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو نشان امتیاز (ملٹری) سمیت متعدد اعزازات حاصل ہیں
Tags:
Politics