لاہور ڈایوسیس: بشپ ندیم کامران کا الیکشن اور
عدالت کا فیصلہ
چرچ آف پاکستان کی لاہور ڈایوسیس میں بحران کا آغاز جنوری 2023 میں ہوا، جب ریورنڈ ندیم کامران کو بطور بشپ ڈایوسیس کی طرف سے خود کو خودمختار قرار دے کر منتخب کیا گیا۔ یہ الیکشن چرچ آف پاکستان کے مرکزی ادارے، سنڈ (Synod)کو نظرانداز کر کے کیا گیا، سنڈ تمام ڈایوسیس کے لیے بشپس کے انتخابات کی نگرانی کرتا ہے۔ سنڈ نے اس الیکشن کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر دیا، اور لاہور ڈایوسیس کے ساتھ روابط منقطع کر لیے۔اس ضمن میں لاہور ڈایوسس کا کہنا تھا کہ سنڈ اپنی مرضی کے نتائج کے حصول تک جان بوجھ کر بشپ آف لاہور کے الیکشن کو موخٰر کر رہی تھی۔اور لاہور ڈایوسس کا اپنا آئین الیکشن کی اجازت دیتا ہے ۔
پھربشپ ندیم کامران کے بطور بشپ آف لاہور الیکشن
کے خلاف قانونی جنگ کا آغاز ہوا۔
لاہور ہائی کورٹ نے اس معاملے پر فیصلہ سناتے
ہوئے 20 جنوری 2026 کو سنگل بنچ کے فیصلے کو برقرار رکھا، جس نے بشپ ندیم کامران
کے الیکشن کو کالعدم قرار دیا تھا۔ جسٹس احمد ندیم ارشد کی سربراہی میں ڈویژن بنچ
نے لاہور ڈایوسس کی سیکرٹری سمینہ بھٹی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے نئے انتخابات کا حکم
دیا، جو لاہور ڈیواسس چرچ آف پاکستان کے آئین کے مطابق ہوں گے۔ چرچ آف پاکستان کے
ترجمان ریورنڈ اعمانویل سردار کھوکھر نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ
"یہ آئین اور قانون کی بالادستی کی فتح ہے، جو مسیحی برادری اور چرچ کے لیے
مثبت ماحول پیدا کرے گی۔
تاہم قانونی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی جب لاہور
ڈایوسس کی اپیل پر4فروری کو وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر
تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا۔
لاہور ہائی کورٹ کے 23 جنوری 2026 کے فیصلے کے
بعد، جہاں بشپ ندیم کامران کا الیکشن کالعدم قرار دیا گیا، چرچ آف پاکستان کے
موڈریٹر بشپ آزاد مارشل نے عبوری انتظامات کے لیے پادری وسیم اللہ کھوکھر کو لاہور
ڈایوسیس کا کمسری(Commissary) مقرر کر دیا تھا۔
پادری وسیم اللہ کھوکھر نے بھی بشپ ندیم کامران اورلاہور ڈایوسس کی انتظامہ کے خلاف توہین عدالت کا کیس دائر کر رکھا ہے
تاہم اب کیس وفاقی آئینی عدالت میں فیصلے کا
منتظر ہے ۔
پشاور ڈایوسیس: بشپ ہمفری سرفراز پیٹرز کی ریٹائرمنٹ
چرچ آف پاکستان کی پشاور ڈایوسیس میں بھی قیادت
کی منتقلی بحران کا شکار ہے۔ بشپ ہمفری سرفراز پیٹرز، جو 2010 سے اس عہدے پر فائز
تھے، 26 جنوری 2026 کو 73 سال کی عمر پہنچنے پر ریٹائر ہو گئے۔ ان کی 15 سالہ مدت
میں ڈایوسیس میں پیرشز کی تعداد میں اضافہ ہوا، جو ان کی لگن کا ثبوت ہے۔ وہ چرچ
آف پاکستان کے سابق موڈریٹر اور جنرل سیکریٹری بھی رہے۔
چرچ آف پاکستان سنڈ کا پشاور ڈایوسس سے تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب پشاور ڈایوسس کے بشپ ہمفری سرفراز پیٹرز نے مرکزی قیادت کی مشاورت کے بغیر اپنے جانشین کے انتخاب کا اعلان کیا، جس پر مرکزی سنڈ نے سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے آئین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
بشپ پیٹرز کا مؤقف ہے کہ موجودہ سنڈ کی مرکزی
قیادت کی تین سالہ آئینی مدت ختم ہو چکی ہے، اس لیے وہ اب ایک غیر قانونی ادارہ ہے
جس کے فیصلے ڈایوسس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ وہ ڈایوسس کی خود مختاری اور لاہور
ڈایوسس کے ساتھ مفاہمت پر بھی زور دیتے ہیں۔
دوسری جانب چرچ آف پاکستان کی
مرکزی قیادت یعنی سنڈ کے عہدیداروں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ
سنڈ اگلے انتخاب تک مکمل طور پر بااختیار ہے اور بشپ ہمفری خود ماضی میں اسی طرح
کے طریقہ کار سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ مرکزی قیادت کی بروقت مداخلت، پشاور میں
براہِ راست ملاقاتوں اور قانونی کارروائی کے انتباہ کے بعد الیکشن فی
الحال ملتوی کر دیا گیاہے۔ فریقین کے درمیان ہونے والے ایک حالیہ معاہدے کے
مطابق اب یہ تمام متنازع معاملات بشپ کونسل کے آئندہ اجلاس میں زیرِ بحث لائے
جائیں گے تاکہ اتفاقِ رائے سے کوئی حل نکالا جا سکے۔
اس دوران دونوں اطراف سے متضاد الزامات بھی سامنے
آئے ہیں، جہاں سنڈ کے کچھ ذرائع اسے ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کا حربہ قرار دے رہے
ہیں، وہیں بشپ ہمفری ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے اسے صرف چرچ کے آئین کی بالادستی
اور اتحاد کے لیے کی جانے والی کوشش قرار دیتے ہیں۔
جنوری میں بین الاقومی تحریک برائے مسیحی اتحاد کی ہفتہ وار تقریبات کے دوران فریقین کا ایک دوسرے کے خلاف احتجاج "مسیحی تقسیم کا ہفتہ" بن گیا، پولیس نے لاہور کیتھیڈرل پر سیکیورٹی بڑھا دی اور دونوں فریقین کو امن برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
یہ بحران چرچ آف پاکستان کی آٹھ ڈایوسیس کو متاثر کر رہا ہے، جہاں علاقائی خودمختاری بمقابلہ مرکزی اتھارٹی کا تنازع ہے۔ 2023 میں لاہور کے الیکشن سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ پشاور کی ریٹائرمنٹ اور نئی تقرریوں تک پھیل گیا ہے۔ مسیحی برادری کے اراکین کا کہنا ہے کہ یہ اندرونی لڑائیاں چرچ کی گواہی کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
اس بحران نے چرچ کی وحدت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مسیحی حلقو ں میں چرچ قیادت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے بیشتر سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہے کہ "یہ جائیدادوں پر قبضے کی لڑائی ہے۔
سوشل میڈیا پر عوام کا کہنا ہے کہ چرچ آف پاکستان کے موجودہ بحران کا پائیدار حل صرف آئین کی مکمل پاسداری، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات، اور باہمی مشاورت کے فروغ میں مضمر ہے۔ قیادت اور ڈایوسیسز کو ذاتی یا گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر چرچ کی وحدت، ساکھ اور روحانی گواہی کو ترجیح دینا ہوگی۔ مصالحتی مکالمہ، بشپ کونسل اور سنڈ کے پلیٹ فارم پر اتفاقِ رائے کی فضا قائم کر کے ہی اس بحران کو چرچ کی مضبوطی اور اصلاح کا موقع بنایا جا سکتا ہے۔
:مزید پڑھیں
لاہور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: بشپ آف لاہور ندیم کامران کا انتخاب کالعدم قرار
چرچ آف پاکستان نے اینگلیکن چرچ کی نئی آرچ بشپ کی تقرری پر تشویش کا اظہار کیا ہے
بشپ سیموائیل عزرایاہ کا اعزاز: منہاج یونیورسٹی کی طرف سےلائف اچیومنٹ ایوارڈ
آج آل سینٹس چرچ پشاور دہشت گرد حملے کو 12 سال ہو گئے۔ بشپ آزاد مارشل کا پیغام
