دنیا بھر میں لاکھوں مسیحی ہر سال ایک خاص دن کو مناتے ہیں جسے "راکھ کا بدھ" (Ash Wednesday) کہا جاتا ہے۔ یہ دن نہ صرف مذہبی اہمیت کا حامل ہے بلکہ انسانی زندگی کی حقیقتوں پر غور کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔راکھ کا بدھ کیا ہے؟راکھ کا بدھ مسیحی کیلنڈر کا ایک اہم دن ہے جو لینٹ (Lent) یعنی 40 دنوں کی مدت کا آغاز کرتا ہے۔ لینٹ ایک ایسا دور ہے جس میں مسیحی روزہ، دعا اور توبہ پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، جو ایسٹر سنڈے (Easter Sunday) تک جاری رہتا ہے۔ ایسٹر مسیحیوں کے لیے یسوع مسیح کی موت اور جی اٹھنے کی یادگار ہے۔ راکھ کا بدھ ہمیشہ فروری یا مارچ میں آتا ہے، اور اس کا دن تبدیل ہوتا رہتا ہے کیونکہ یہ ایسٹر کی تاریخ پر منحصر ہے۔ اس دن کی سب سے نمایاں روایت یہ ہے کہ مسیحی چرچ میں جاتے ہیں جہاں پادری یا مذہبی رہنما ان کی پیشانی پر راکھ سے صلیب کی شکل بناتے ہیں۔ یہ راکھ عام طور پر پچھلے سال کے پام سنڈے (Palm Sunday) کی کجھورکی شاخوں کو جلانے سے حاصل کی جاتی ہے۔ پام سنڈے وہ دن ہے جب یسوع مسیح کی یروشلم میں آمد کی یاد منائی جاتی ہے۔ راکھ لگانے کے وقت اکثر یہ الفاظ کہے جاتے ہیں: "توبہ کرو اور انجیل پر یقین کرو" یا "یاد رکھو کہ تم مٹی سے بنے ہو اور مٹی میں لوٹ جاؤ گے۔تاریخی پس منظرراکھ کا بدھ کی روایت کی جڑیں بائبل کے زمانے میں پائی جاتی ہیں، اگرچہ بائبل میں اس دن کا براہ راست ذکر نہیں ہے۔ بائبل میں راکھ اور توبہ کی علامت کا استعمال متعدد جگہوں پر ملتا ہے، جیسے کہ کتاب پیدائش میں جہاں کہا گیا ہے کہ انسان مٹی سے بنا ہے اور مٹی میں لوٹ جائے گا (Genesis 3:19)۔ قدیم زمانے میں، لوگ توبہ اور ماتم کے اظہار کے لیے راکھ میں بیٹھتے یا اسے اپنے جسم پر ملتے تھے۔ یہ روایت یہودی اور ابتدائی مسیحی ثقافتوں میں عام تھی۔ یہ دن بطور رسمی طور پر چھٹی صدی میں شروع ہوا، جب پوپ گریگوری دی گریٹ نے اسے لینٹ کے آغاز کے طور پر متعارف کرایا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ کیتھولک، پروٹسٹنٹ اور دیگر مغربی مسیحی فرقوں میں پھیل گیا۔ آج یہ دنیا بھر میں، یورپ، امریکہ، افریقہ، ایشیا اور آسٹریلیا میں منایا جاتا ہے۔ فلپائن اور برازیل جیسے ممالک میں یہ بڑی شان و شوکت سے منایا جاتا ہے۔ مذہبی اہمیتراکھ کا بدھ مسیحیوں کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ زندگی عارضی ہے اور ہمیں اپنے اعمال پر غور کرنا چاہیے۔ راکھ کی صلیب انسانی کمزوری، گناہ اور موت کی علامت ہے، لیکن ساتھ ہی یہ امید کی بھی علامت ہے کیونکہ صلیب یسوع مسیح کی قربانی اور جی اٹھنے کی یاد دلاتی ہے۔ یہ دن مسیحیوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنی زندگیوں سے غیر ضروری چیزوں کو کم کریں، روزہ رکھیں اور دوسروں کی مدد کریں۔ غیر مسیحیوں کے لیے، یہ دن ایک عالمگیر پیغام دیتا ہے: خود شناسی اور بہتری کی کوشش۔ یہ ایک موقع ہے جہاں لوگ اپنی غلطیوں پر غور کریں اور بہتر انسان بننے کی کوشش کریں، بغیر کسی مذہبی پابندی کے۔
کیسے منایا جاتا ہے؟راکھ کا بدھ پر مسیحی لوگ چرچ کی خصوصی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔ یہ دن روزہ اور پرہیز کا بھی ہے، جہاں لوگ گوشت سے پرہیز کرتے ہیں اور کم کھاتے ہیں۔ کچھ لوگ لینٹ کے دوران کوئی عادت چھوڑ دیتے ہیں، جیسے چاکلیٹ کھانا یا سوشل میڈیا کا استعمال کم کرنا۔ یہ سب کچھ خود پر قابو پانے اور خدا سے قریب ہونے کے لیے کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں یہ دن مختلف طریقوں سے منایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، ویٹیکن میں پوپ خود راکھ کی تقریب کی قیادت کرتے ہیں، جبکہ افریقی ممالک میں یہ مقامی ثقافتوں کے ساتھ مل کر منایا جاتا ہے۔لینٹ سے تعلقراکھ کے بدھ سے لینٹ کے 40 دنوں کا آغاز ہوتا ہے ۔ یہ 40 دن یسوع مسیح کے صحرا میں 40 دنوں کی یاد میں منائے جاتے ہیں جہاں انہوں نے روزہ رکھا اور شیطان کی آزمائشوں کا مقابلہ کیا۔ لینٹ کے اختتام پر ایسٹر آتا ہے۔
Tags:
Christianity
