عمران خان کی بینائی میں 'نمایاں بہتری': پمزہسپتال، پی ٹی آئی کی جانب سے رپورٹ مسترد

Imran Khan Chairman PTI


اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سابق وزیراعظم اور پارٹی کے بانی عمران خان کی آنکھوں کے علاج سے متعلق پمز ہسپتال کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی جانب سے جاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان کو دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (CRVO) کی بیماری کا سامنا ہے، جس کے بعد انہیں اینٹی وی ای جی ایف انجکشن کی دوسری خوراک دی گئی۔ ہسپتال کے مطابق علاج کے بعد ان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور وہ طبی طور پر مستحکم ہیں۔تاہم پی ٹی آئی نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم کا معائنہ اور علاج ان کے ذاتی ڈاکٹروں اور خاندان کے ارکان کی موجودگی کے بغیر کیا گیا، جس سے شفافیت کا شدید فقدان ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ رات کے وقت خفیہ طریقے سے ہسپتال منتقلی اور علاج کا عمل حکومت کی جانب سے عدم اعتماد پیدا کرنے کی کوشش ہے۔پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے جہاں ان کے منتخب معالجین آزادانہ طور پر ان کا معائنہ کر سکیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید کے دوران ان کی صحت کے حوالے سے مسلسل تشویش ہے اور حکومت انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔واضح رہے کہ جنوری 2026 میں عمران خان کی دائیں آنکھ میں یہ سنگین بیماری تشخیص ہوئی تھی، جس کے بعد فروری میں پہلی انجکشن دی گئی۔ تازہ ترین فالو اپ میں دوسری انجکشن دی گئی، جسے پمز نے کامیاب قرار دیا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کا اصرار ہے کہ آزادانہ اور شفاف طبی جائزہ ہی اصل صورتحال واضح کر سکتا ہے۔یہ معاملہ عدالتی سطح پر بھی زیر بحث ہے جہاں مختلف درخواستوں میں عمران خان کی صحت اور علاج کے انتظامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

Web Desk

ہر نیوز انٹرنیٹ کی دُنیا میں ہر خبر کو اردوپڑھنے اور بولنے والوں کے لیے بروقت فراہم کرتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی