پنجاب میں تعلیمی ادارے 10 سے 31 مارچ تک بند رہیں گے۔ مریم نواز



لاہور (نمائندہ خصوصی) — 9 مارچ 2026 — پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو 10 مارچ سے 31 مارچ 2026 تک بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے تیل کے بحران اور فیول کی ممکنہ کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ فیول کے ذخائر کو بچایا جا سکے۔محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ چھٹیاں فیول کنزرویشن کے اقدامات کے تحت نافذ کی جا رہی ہیں۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی صورتحال، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے تیل کی سپلائی پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان میں بھی فیول کی قلت کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ اس لیے صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش سے نقل و حمل پر ہونے والا فیول استعمال کم کیا جائے۔اہم تفصیلات یہ ہیں:

  • تمام سرکاری اور پرائیویٹ سکول 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رہیں گے۔
  • کالجز اور یونیورسٹیاں بھی اسی مدت کے لیے بند ہوں گی۔
  • بورڈ امتحانات اور دیگر شیڈولڈ ٹیسٹ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
  • تعلیمی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس عرصے میں آن لائن کلاسز کا اہتمام کریں تاکہ طلبہ کی تعلیم میں تسلسل برقرار رہے۔
  • سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم پالیسی نافذ کرنے کے علاوہ صوبائی وزراء اور افسران کے لیے سرکاری گاڑیوں کا فیول الاؤنس بھی کم کر دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ عارضی اقدامات ہیں جو صورتحال بہتر ہونے تک جاری رہیں گے۔ اگر بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں استحکام آ جاتا ہے یا سپلائی نارمل ہو جاتی ہے تو تعلیمی ادارے مقررہ وقت سے پہلے بھی کھولے جا سکتے ہیں۔والدین اور طلبہ کی جانب سے اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ والدین کا کہنا ہے کہ فیول بچانے کے لیے یہ قدم درست ہے جبکہ دوسروں کا خیال ہے کہ اتنی طویل بندش سے بچوں کی تعلیم متاثر ہو گی، خاص طور پر جو طلبہ سالانہ امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں۔ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ آن لائن کلاسز کا آپشن موجود ہونے کے باوجود دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ اور ڈیوائسز کی عدم دستیابی کی وجہ سے بہت سے بچے متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کم از کم کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کے لیے متبادل انتظامات کیے جائیں۔یہ فیصلہ بلوچستان حکومت کے اسی طرح کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جہاں 10 سے 23 مارچ تک تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

Web Desk

ہر نیوز انٹرنیٹ کی دُنیا میں ہر خبر کو اردوپڑھنے اور بولنے والوں کے لیے بروقت فراہم کرتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی