امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی پیشکش والے ٹویٹ کو ری ٹویٹ کر دیا ہے۔یہ پیشکش مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے پاکستان کی طرف سے اہم سفارتی اقدام کے طور پر سامنے آئی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ "امریکہ اور ایران کی رضامندی کے تحت، پاکستان بامعنی اور حتمی بات چیت کی میزبانی کرنے کے لیے تیار اور فخر محسوس کرتا ہے، تاکہ جاری تنازع کا جامع حل نکالا جا سکے۔" انہوں نے یہ ٹویٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی خصوصی ایلچی سٹیون وِٹکوف کو ٹیگ کرتے ہوئے کیا۔صدر ٹرمپ نے اس ٹویٹ کا اسکرین شاٹ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ Truth Social پر شیئر کیا، جس سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو بین الاقوامی سطح پر توجہ ملی۔ یہ اقدام پاکستان کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل آصف منیر کی صدر ٹرمپ سے حالیہ ٹیلی فونک گفتگو کے بعد سامنے آیا ہے۔پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد دونوں فریقین کی رضامندی سے بات چیت کی میزبانی کر سکتا ہے، جو علاقائی امن اور استحکام کے لیے اہم ہو گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے بھی بات کی ہے اور علاقائی امن کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ماہرین کے مطابق، پاکستان، ترکی اور مصر سمیت کئی ممالک ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن امریکہ اور ایران کے درمیان گہری تقسیم اور ایران کی "مکمل فتح" تک لڑنے کی پالیسی بڑی رکاوٹیں ہیں۔یہ پیشکش اس وقت کی گئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں تناؤ عروج پر ہے۔ ایران نے اب تک امریکہ سے براہ راست بات چیت کی تردید کی ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے "بہت اچھی اور نتیجہ خیز" گفتگو کا دعویٰ کیا ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ علاقائی تنازعات کے پرامن حل کی حامی رہی ہے، اور یہ پیشکش اسی سمت میں ایک مثبت قدم سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم، بات چیت کی کامیابی دونوں فریقین کی رضامندی پر منحصر ہے۔یہ خبر علاقائی اور عالمی میڈیا میں تیزی سے پھیل رہی ہے، اور سفارتی حلقوں میں اسے پاکستان کی بڑھتی ہوئی ثالثی کردار کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
x