اسلام آباد (خبر رساں ادارہ) — سوئس ایئر کوالٹی مانیٹرنگ فرم آئی کیو ایئر کی تازہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ ملک بن گیا ہے۔ ہوا میں خطرناک ذرات (پی ایم 2.5) کی اوسط مقدار عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تجویز کردہ حد سے 13 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2025 کے دوران پی ایم 2.5 کی اوسط سطح 67.3 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر رہی، جو ڈبلیو ایچ او کی سالانہ حد (5 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر) سے تقریباً 13.5 گنا زیادہ ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کی درجہ بندی دنیا بھر کے 143 ممالک میں پہلے نمبر پر آ گئی۔ بنگلہ دیش دوسرے اور تاجکستان تیسرے نمبر پر رہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ آلودگی صحت کے لیے شدید خطرہ ہے۔ چھوٹے ذرات پھیپھڑوں میں گھس کر خون میں شامل ہو جاتے ہیں، جس سے سانس کی بیماریاں، دل کے امراض، کینسر اور قبل از وقت اموات میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں لوگ اس زہریلی ہوا کی زد میں ہیں، خاص طور پر بچے، بوڑھے اور دمہ کے مریض زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں میں سموگ کا بحران خاص طور پر شدید رہا۔ متعدد بار لاہور دنیا کے سب سے آلودہ شہر کی فہرست میں سرفہرست آیا، جہاں اے کیو آئی 500 سے بھی تجاوز کر گیا۔آلودگی کے اہم ذرائع:
- صنعتی اخراج
- پرانی گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں
- اینٹوں کے بھٹوں
- فصل کی باقیات جلانا
- تعمیراتی سرگرمیاں اور سڑکوں کی گرد
یہ رپورٹ ایک بار پھر پاکستان میں ماحولیاتی مسائل کی سنگینی کو اجاگر کرتی ہے اور صاف ہوا کے لیے قومی سطح پر مشترکہ جدوجہد کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔
