بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی ۔ بہادرشاہ ظفر کی غزل

بہادر شاہ ظفر ۔ آخری شہنشاہ ہند ۔ اردو شاعر


غزل 

(بہاد شاہ ظفر )

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی


لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار

بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی


اس کی آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادو

کہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی


اب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیف

سخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی


عکس رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا

تاب تجھ میں مہ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی


نگہ یار کو اب کیوں ہے تغافل اے دل

وہ ترے حال سے غافل کبھی ایسی تو نہ تھی


پائے کوباں کوئی زنداں میں نیا ہے مجنوں

آتی آواز سلاسل کبھی ایسی تو نہ تھی


چشم قاتل مری دشمن تھی ہمیشہ لیکن

جیسی اب ہو گئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی


کیا سبب تو جو بگڑتا ہے ظفرؔ سے ہر بار

خو تری حور شمائل کبھی ایسی تو نہ تھی


Web Desk

ہر نیوز انٹرنیٹ کی دُنیا میں ہر خبر کو اردوپڑھنے اور بولنے والوں کے لیے بروقت فراہم کرتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی