آشا بھوسلے کی زندگی پر ایک نظر

Asha Bhosle


بھارتی فلمی صنعت کی ایک عظیم آواز، پلے بیک سنگر، تاجر خاتون، اداکارہ اور ٹیلی ویژن شخصیت آشا بھوسلے (پیدائشی نام: آشا منگیشکر) کا سفر ایک ایسی کہانی ہے جو جدوجہد، فنون لطیفہ کی محبت اور  کامیابی سے بھرا ہوا ہے۔ ۸ ستمبر ۱۹۳۳ کو مہاراشٹر کے سنگلی ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں گوڑ میں پیدا ہونے والی آشا نے آٹھ دہائیوں سے زائد کیریئر میں ہندوستانی سنیما کو ہزاروں یادگار گانوں سے نوازا۔ انہوں نے ۲۰ سے زائد زبانوں میں بارہ ہزار سے زیادہ گانے ریکارڈ کیے، جو ان کی آواز کی استعداد اور فن کی ورسٹائلٹی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ۱۲ اپریل ۲۰۲۶ کو ممبئی میں ۹۲ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا، لیکن ان کی موسیقی آج بھی لاکھوں دلوں میں زندہ ہے۔

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

آشا منگیشکر کا تعلق موسیقی کے مشہور خاندان سے تھا۔ ان کے والد پنڈت دیناناتھ منگیشکر ایک مشہور ماراٹھی تھیٹر شخصیت اور کلاسیکل گلوکار تھے، جبکہ والدہ شیونتی منگیشکر گجراتی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ آشا پانچ بہن بھائیوں میں تیسری تھیں۔ ان کی بڑی بہن لتا منگیشکر بالی ووڈ کی "میلوڈی کوئین" کہلائیں، جبکہ دیگر بہنوں مینا اور اوشا منگیشکر اور چھوٹے بھائی ہردیناتھ منگیشکر نے بھی موسیقی کے میدان میں نام کمایا۔

بچپن میں ہی والد نے انہیں کلاسیکل موسیقی کی تربیت دی۔ نو سال کی عمر میں والد کی اچانک وفات کے بعد خاندان پر ذمہ داریاں آ پڑیں۔ خاندان پونے سے ممبئی منتقل ہوا، جہاں لتا منگیشکر نے گھر چلانے کی ذمہ داری سنبھالی۔ آشا نے بھی بہن کی مدد کے لیے گانا شروع کر دیا۔ ان کا پہلا گانا ۱۹۴۸ میں فلم "چناریا" میں تھا، لیکن ابتدائی برسوں میں جدوجہد رہی۔

 سولہ سال کی عمر میں آشا نے لتا منگیشکر کے سیکریٹری گنپتراؤ بھوسلے سے محبت کی شادی کر لی، جو ان سے تقریباً ۲۰ سال بڑے تھے۔ یہ شادی خاندان کی مرضی کے خلاف تھی، جس کے نتیجے میں منگیشکر فیملی نے انہیں گھر سے نکال دیا۔ شادی کے بعد تین بچوں کی پیدائش ہوئی، لیکن ازدواجی زندگی خوشگوار نہ رہی۔ آشا نے بعد میں اپنی سوانح میں بتایا کہ شوہر کا مزاج تیز تھا اور انہیں ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک بار چار ماہ کی حاملگی کے دوران شدید مایوسی میں انہوں نے خودکشی کی کوشش بھی کی، لیکن بچ گئیں۔ ۱۹۶۰ میں طلاق ہو گئی۔

بعد میں آشا نے کمپوزر آر ڈی برمن (پنچم) سے دوسری شادی کی، جو ان کی موسیقی کی زندگی کا اہم حصہ بن گئی۔ یہ رشتہ بھی کچھ چیلنجز کا شکار رہا، مگر فنون لطیفہ کی دنیا میں ان کی شراکت داری نے کئی یادگار گانے پیدا کیے

موسیقی کا سفر: عروج اور کامیابیاں

۔۱۹۵۰ کی دہائی میں آشا کو کمپوزر او پی نیّر کے ساتھ بڑا بریک ملا۔ فلموں "تم سا نہیں دیکھا" (۱۹۵۷) اور "نیا دور" (۱۹۵۷) کے گانوں نے انہیں شہرت دی۔ "ہاؤرا برج"، "چلتی کا نام گاڑی" اور دیگر فلموں میں ان کی آواز نے سنیما گاہکوں کو مسحور کر دیا۔ او پی نیّر کے ساتھ ان کی جوڑی نے "پیا تو اب تو آجا" جیسے کیبریٹ سٹائل گانوں سے انہیں "کیبریٹ کوئین" کا خطاب دیا۔

بعد میں ایس ڈی برمن اور خاص طور پر آر ڈی برمن کے ساتھ کام کیا۔ "ڈم مارو ڈم"، "دل چیز کیا ہے" اور دیگر گانوں نے ان کی آواز کی گہرائی اور استعداد کو اجاگر کیا۔ وہ غزلوں، پاپ، راک، اور روایتی ہندوستانی موسیقی سب میں مہارت رکھتی تھیں۔ ۹۶۸ میں انہیں فلم فیئر ایوارڈ برائے بہترین خاتون پلے بیک سنگر ملا، جو اس کیٹگری کا پہلا ایوارڈ تھا۔

انہوں نے ۸۰۰ سے زائد فلموں کے لیے گانے گائے۔ ان کی آواز نے بالی ووڈ کو نئی جہت دی اور خواتین کی اظہار کی آزادی کو فروغ دیا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی شہرت پھیلی، اور وہ ریسٹورنٹس کی چین بھی چلاتی رہیں۔

آخری برس اور وراثت

عمر کے آخری برسوں میں بھی آشا فعال رہیں۔ انہوں نے ایک پوڈ کاسٹ میں بتایا کہ ان کی آخری خواہش گاتے ہوئے مرنا ہے۔ "میں گاتے ہوئے مرنا چاہتی ہوں، یہ مجھے سب سے زیادہ خوشی دے گا۔"

آشا بھوسلے کی زندگی جدوجہد سے کامیابی تک کا سفر ہے۔ بچپن کی محرومی، خاندانی تنازعات، ازدواجی مشکلات اور فنون لطیفہ کی دنیا کی سختیوں کے باوجود انہوں نے نہ صرف خود کو ثابت کیا بلکہ لاکھوں لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ان کی آواز آج بھی "آشا تائی" کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔

ان کی وفات کے بعد بالی ووڈ اور موسیقی کی دنیا نے ایک عظیم فنکار کو کھویا، لیکن ان کی موسیقی ہمیشہ زندہ رہے گی۔ آشا 

بھوسلے کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ لچک اور جذبے کے ساتھ کوئی بھی چیلنج پار کیا جا سکتا ہے۔


Web Desk

ہر نیوز انٹرنیٹ کی دُنیا میں ہر خبر کو اردوپڑھنے اور بولنے والوں کے لیے بروقت فراہم کرتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی