ایک بادشاہ کو اپنے مرحوم استاد سے بڑی عقیدت تھی۔ استاد نے مرتے وقت اسے ایک خط دیا اور کہا
جب بھی سلطنت کے حالات بگڑنے لگیں، اسے کھول کر پڑھ لینا۔ اس میں وہ اصول ہیں جن پر چل کر تم اپنی رعایا کے ساتھ انصاف کر سکو گے۔
بادشاہ نے خط کو سونے کے فریم میں جڑوا کر محل کے سب سے بڑے دربار میں آویزاں کر دیا۔
ہر سال استاد کی برسی پر شاندار تقریب ہونے لگی۔ محل سجایا جاتا، درباری نئی پوشاکیں پہنتے، استاد کی عظمت پر تقریریں ہوتیں اور بادشاہ فخر سے اعلان کرتا
ہم اپنے عظیم استاد کی تعلیمات کبھی نہیں بھول سکتے۔
ایک سال دربار میں ایک بوڑھے شخص نے ہاتھ اٹھا کر پوچھ لیا
حضور! استاد نے اس خط میں لکھا کیا تھا؟
دربار میں خاموشی چھا گئی۔
بادشاہ نے خط کی طرف دیکھا، پھر وزیر کی طرف۔
وزیر نے آہستہ سے کہا
حضور، خط کھولنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم ہر سال اس کی یاد تو مناتے ہیں۔
بادشاہ مطمئن ہوگیا۔
اگلے سال استاد کی برسی پہلے سے بھی زیادہ شان و شوکت سے منائی گئی۔
خط بدستور بند رہا۔
پاکستان میں 11 اگست کا یومِ اقلیت دیکھ کر کبھی کبھی یہی کہانی یاد آتی ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں خط نہیں، قائداعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947 کی تقریر ہے۔
ہم نے اس تقریر کی یاد میں دن مقرر کر دیا، سرکاری تقریبات شروع کر دیں، سیمینار منعقد ہونے لگے، اقلیتوں کے نمائندوں کو اسٹیج پر بٹھایا جانے لگا، قائداعظم کی تصاویر بینروں پر سجا دی گئیں—مگر جس تقریر کے نام پر یہ سب کچھ ہوتا ہے، اس کے اصل الفاظ اور ان میں موجود ریاست کا تصور اکثر تقریب کے دروازے ہی پر رہ جاتا ہے۔
یہ بھی ایک کمال ہے
ہم نے خط کا فریم بہت خوبصورت بنا دیا ہے، بس خط کھولنے سے گریز ہے۔
اگست آتا ہے تو ہمیں یاد آتا ہے کہ پاکستان میں اقلیتیں بھی رہتی ہیں۔ انہیں مبارک باد دی جاتی ہے، ان کی خدمات کو سراہا جاتا ہے، مذہبی ہم آہنگی کے عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے۔ کہیں کیک کاٹا جاتا ہے، کہیں شیلڈ دی جاتی ہے اور کہیں سرکاری تصویر میں اقلیتی نمائندوں کو اگلی صف میں جگہ بھی مل جاتی ہے۔
پھر 12 اگست آ جاتا ہے۔
اور زندگی دوبارہ معمول پر آ جاتی ہے۔
حالانکہ 11 اگست 1947 کو قائداعظم نے دستور ساز اسمبلی میں بات محض اقلیتوں کو مبارک باد دینے کی نہیں کی تھی۔ انہوں نے مذہبی آزادی اور شہری حیثیت کے متعلق غیر معمولی طور پر واضح الفاظ استعمال کیے تھے
“You are free; you are free to go to your temples, you are free to go to your mosques or to any other place of worship…”
اور پھر وہ جملہ آیا جسے اگر واقعی یومِ اقلیت کی تقریبات میں مرکزی حیثیت دے دی جائے تو شاید تقریبات کچھ غیر آرام دہ ہو جائیں:
“You may belong to any religion or caste or creed—that has nothing to do with the business of the State.”
بس یہی وہ مقام ہے جہاں ہمارا قومی جشن ذرا مشکل میں پڑ جاتا ہے۔
قائداعظم کی تصویر آسان ہے۔
قائداعظم کا نام بھی آسان ہے۔
قائداعظم زندہ باد کہنا بھی آسان ہے۔
مشکل قائداعظم کے الفاظ ہیں۔
کیونکہ الفاظ سوال پیدا کرتے ہیں۔
تقریر موجود ہے۔
اگر مذہب، ذات اور عقیدہ شہری کے ساتھ ریاست کے تعلق میں امتیاز کی بنیاد نہیں ہونا چاہیے تو پھر کوئی پوچھ سکتا ہے کہ آج پاکستان میں ایک شہری کی مذہبی شناخت اس کے مواقع، سیاسی نمائندگی، سرکاری ملازمت، سماجی مرتبے اور روزمرہ زندگی پر کس حد تک اثرانداز ہوتی ہے؟
کوئی یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ اگر ہم 11 اگست کی تقریر کو قومی ورثہ سمجھتے ہیں تو اس کا شہری مساوات کا تصور ہماری ریاستی اور معاشرتی زندگی میں کہاں دکھائی دیتا ہے؟
اور یہ سوال کسی سرکاری تقریب کے پروگرام کارڈ پر تو لکھے نہیں ہوتے۔
تقریب کا اپنا ایک نظم ہوتا ہے۔ تلاوت، استقبالیہ، مہمانِ خصوصی کا خطاب، اقلیتوں کی خدمات کا اعتراف، شیلڈز، گروپ فوٹو، چائے—اور اختتام۔
اگر درمیان میں قائداعظم کی پوری 11 اگست والی روح داخل ہوگئی تو پروگرام کچھ لمبا بھی ہوسکتا ہے اور مشکل بھی۔
اس لیے شاید ہم نے ایک نہایت عملی حل تلاش کر لیا ہے
قائداعظم کی تقریر کو سلام پیش کرو، مگر اسے زیادہ بولنے مت دو۔
اقلیتوں کو بھی بتایا جاتا ہے کہ آپ اس ملک کا حسن ہیں، آپ نے پاکستان کی تعمیر میں عظیم کردار ادا کیا ہے، آپ ہمارے بھائی ہیں، پاکستان سب کا ہے۔
یہ سب سن کر ایک اقلیتی شہری اگر ذرا گستاخی کرتے ہوئے پوچھ لے
’’بہت شکریہ، لیکن کیا میں صرف آپ کا بھائی ہوں یا برابر کا شہری بھی؟‘‘
تو سوال تقریب کے مزاج سے کچھ میل نہیں کھاتا۔
کیونکہ ’’بھائی‘‘ ایک جذباتی لفظ ہے۔
’’برابر کا شہری‘‘ ایک آئینی مطالبہ ہے۔
اور یہی شاید 11 اگست کی اصل روح ہے۔
اس دن قائداعظم نے اقلیتوں کے لیے کسی خصوصی رعایت کا تصور پیش نہیں کیا تھا۔ بات اس سے کہیں بڑی تھی۔ بات ایسی ریاست کی تھی جس میں شہری کا مذہب اس کے بنیادی شہری مقام کا تعین نہ کرے۔
مگر ہم نے وقت کے ساتھ اس تصور کو بھی ایک تہوار میں تبدیل کردیا۔
ایک دن اقلیتوں کے نام۔
چند تقریریں۔
چند تصاویر۔
چند بیانات۔
اور پھر اگلے سال ملاقات ہوگی۔
بالکل اس بادشاہ کی طرح جو ہر سال اپنے استاد کے خط کے سامنے کھڑا ہو کر اس کی عظمت بیان کرتا تھا، مگر خط کھولنے پر آمادہ نہیں تھا۔
شاید پاکستان کا مسئلہ بھی یہ نہیں کہ ہم قائداعظم کی 11 اگست کی تقریر بھول گئے ہیں۔
اصل طنز یہ ہے کہ ہمیں یاد ہے۔
اتنی یاد ہے کہ اس کی یاد میں سرکاری دن موجود ہے۔
مگر شاید اتنی یاد نہیں کہ اس دن قائداعظم کو خود بولنے دیا جائے۔
سو اس سال بھی یومِ اقلیت منایا گیا۔
بینر لگے۔
تقریریں ہوئیں۔
قائداعظم کی تصویر سجی ۔
لیکن کبھی فرصت ملے تو فریم سے خط نکال کر پڑھ بھی لیجیے۔
ممکن ہے معلوم ہو کہ 11 اگست صرف اقلیتوں کو مبارک باد دینے کا دن نہیں تھا۔
یہ دراصل ریاست کو یاد دلانے کا دن تھا کہ اس کے شہریوں کے درمیان مذہب، ذات اور عقیدے کی بنیاد پر فرق نہیں ہونا چاہیے۔
اور جس دن ہمیں اس بات کو یاد دلانے کے لیے الگ سے ’’یومِ اقلیت‘‘ منانے کی ضرورت نہ رہے، شاید وہی دن قائداعظم کی 11 اگست کی تقریر کا سب سے بڑا جشن ہوگا۔
کیونکہ تقریروں کی اصل عزت ان کی برسی منانے میں نہیں، ان کے اصول زندہ رکھنے میں ہوتی ہے۔
جس دن اس سوال کا جواب تقریروں، بینروں اور تصویروں کے بجائے ریاستی رویّے اور شہری زندگی میں نظر آنے لگے گا، شاید اس دن 11 اگست محض یومِ اقلیت نہیں رہے گا۔
وہ واقعی یومِ مساوی شہریت بن جائے گا۔
