کوئٹہ، 17 جنوری 2026 – محمود خان اچکزئی، پاکستان کی سیاست میں ایک توانا اور مستقل آواز ہیں، حال ہی میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔ یہ تقرری پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے، خاص طور پر جب کہ وہ پختون حقوق اور صوبائی خودمختاری کی جدوجہد کے لیے مشہور ہیں۔ آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں ان کی زندگی اور کیریئر پر، جو جدوجہد، قربانی اور سیاسی استقامت کی داستان ہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
محمود خان اچکزئی 14 دسمبر 1948 کو بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں پیدا ہوئے۔ یہ علاقہ پختون اکثریتی ہے اور ان کی پیدائش ایک ایسے خاندان میں ہوئی جو سیاسی طور پر فعال تھا۔ ان کے والد، عبد الصمد خان اچکزئی، پختون نیشنلسٹ رہنما تھے جو پختونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے بانی تھے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے کے گورنمنٹ پرائمری اسکول سے حاصل کی، میٹرک گورنمنٹ ہائی اسکول گلستان سے کیا، اور انٹرمیڈیٹ (ایف ایس سی) گورنمنٹ ڈگری کالج (سائنس کالج) کوئٹہ سے مکمل کیا۔ بعدازاں، انہوں نے 1971 میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) پشاور سے سول انجینئرنگ میں بی ایس سی/بی ای کی ڈگری حاصل کی۔
سیاست میں داخلہ اور ابتدائی جدوجہد
محمود خان اچکزئی کی سیاسی زندگی کا آغاز 1970 کی دہائی کے اوائل میں ہوا، جب وہ طلبہ تنظیموں جیسے پشتون اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے وابستہ ہوئے۔ تاہم، ان کی حقیقی سیاسی ذمہ داریاں 1973 میں شروع ہوئیں جب ان کے والد عبد الصمد خان اچکزئی کو کوئٹہ میں ایک بم دھماکے میں قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ تھا، اور انہوں نے فوری طور پر پارٹی کی قیادت سنبھالی۔
1989 محمود خان نے پختونخوا نیشنل عوامی پارٹی اور پختونخوا مزدور کسان پارٹی کے مابین معاہدے کے میںذریعے پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ یا پی ایم اے پی) کی بنیاد رکھی اور اس کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ وہ دسمبر 2022 میں دوبارہ اس عہدے پر منتخب ہوئے۔ پی کے میپ بلوچستان میں پختون اکثریتی علاقوں میں ایک مضبوط بنیاد رکھتی ہے اور صوبائی خودمختاری، پختون حقوق اور جمہوری اقدار کی جدوجہد کرتی ہے۔
سیاسی کیریئر کی اہم کامیابیاں
محمود خان اچکزئی کا پارلیمانی کیریئر 1993 سے شروع ہوا جب وہ پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے (این اے-197، کوئٹہ کم چاغی)۔ اس کے بعد، وہ 2002-2007 تک این اے-262 (قلعہ عبداللہ) سے، اور 2013-2018 تک این اے-259 (کوئٹہ) سے ایم این اے رہے۔ 2024 کے عام انتخابات میں، انہوں نے این اے-266 (قلعہ عبداللہ کم چمن) سے کامیابی حاصل کی، جو پی کے میپ کی واحد نشست تھی۔
حالیہ صدارتی انتخابات میں، وہ اپوزیشن امیدوار تھے اور انہیں کچھ ووٹ ملے، لیکن آصف علی زرداری سے ہار گئے۔ حال ہی میں، جنوری 2026 میں، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی تجویز پر انہیں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کیا گیا۔ یہ تقرری کئی ماہ کی تاخیر کے بعد ہوئی اور اب وہ تحفظ آئین پاکستان اتحاد (ٹی ٹی اے پی) کے سربراہ بھی ہیں۔
حالیہ سرگرمیاں اور چیلنجز
محمود خان اچکزئی کی سیاست ہمیشہ پختون حقوق پر مرکوز رہی ہے، اور وہ وفاقی جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کے حامی ہیں۔ ان کی قیادت میں پی کے میپ بلوچستان کی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے، اور اپوزیشن لیڈر کے طور پر ان کا کردار پاکستان کی جمہوریت کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
محمود خان اچکزئی کی زندگی ایک ایسی مثال ہے جو سیاسی قربانی اور استقامت کی عکاسی کرتی ہے۔آنے والوں دنوں میں درپیش چیلنجز سے کیسے نبردآزما ہوں گے یہ وقت بتائے گا۔
Tags:
Politics
