مسیحی خاتون کی مسلمان مرد سے شادی قانونی قرار، والد کی درخواست خارج: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ

Federal Constitutional Court Islamabad


اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت (FCC) نے ایک اہم فیصلے میں مسیحی خاتون اور مسلمان مرد کے درمیان شادی کو قانونی طور پر جائز قرار دیتے ہوئے لڑکی کے والد کی جانب سے دائر کردہ حبسِ بے جا (habeas corpus) کی درخواست خارج کر دی ہے۔

کیس کا پس منظر:

لاہور کے رہائشی شہباز مسیح نے اپنی بیٹی ماریہ بی بی کی بازیابی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ والد کا موقف تھا کہ ان کی بیٹی نابالغ ہے اور اسے زبردستی اغوا کر کے ایک باطل نکاح کے ذریعے شہریار احمد نامی شخص کی تحویل میں رکھا گیا ہے۔ اس سے قبل ایڈیشنل سیشن جج لاہور اور لاہور ہائی کورٹ بھی والد کی ان درخواستوں کو خارج کر چکے تھے۔

عدالتی کارروائی اور لڑکی کا بیان:

جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ ماریہ بی بی نے مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کروائے گئے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور وہ بغیر کسی دباؤ کے شہریار احمد کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہے۔

عدالت کے اہم مشاہدات:

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں چند بنیادی نکات پر روشنی ڈالی:

  1. بین المذاہب شادی کی قانونی حیثیت: عدالت نے اسلامی قوانین اور سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں (بشمول مرینا جٹوئی کیس) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک مسلمان مرد 'اہلِ کتاب' خاتون سے قانونی طور پر شادی کر سکتا ہے۔

  2. قبولِ اسلام کا طریقہ کار: فیصلے میں کہا گیا کہ اسلام قبول کرنے کے لیے کسی مخصوص رسمی تقریب کی ضرورت نہیں ہوتی۔ محض کلمہ طیبہ کا اقرار، اللہ کی وحدانیت اور ختم نبوت پر ایمان لانا ہی کافی ہے۔ عدالت نے نکاح نامہ اور دارالافتاء اہل سنت کے سرٹیفکیٹ کو تبدیلیِ مذہب کے ثبوت کے طور پر تسلیم کیا۔

  3. عمر کا تنازع: والد نے دعویٰ کیا تھا کہ شادی کے وقت لڑکی کی عمر 12 سال تھی، تاہم عدالت نے پیش کردہ دستاویزات کو "ناقابلِ اعتبار" قرار دیا۔ برتھ سرٹیفکیٹ اور نادرا کے ریکارڈ میں تضاد پایا گیا جو کہ پیدائش کے کئی سال بعد بنوائے گئے تھے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ماریہ اور اس کی بہن کی تاریخِ پیدائش میں محض آٹھ ماہ کا فرق دکھایا گیا تھا، جو کہ طبی و منطقی طور پر مشکوک ہے۔

فیصلہ:

عدالت نے ماریہ بی بی کی ظاہری جسمانی ساخت اور اس کے اپنے بیانات کی روشنی میں اسے بالغ قرار دیا اور کہا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی مکمل قانونی حقدار ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ درست تھا اور قانون کے مطابق ہے۔


Web Desk

ہر نیوز انٹرنیٹ کی دُنیا میں ہر خبر کو اردوپڑھنے اور بولنے والوں کے لیے بروقت فراہم کرتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی