ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے پر اقلیتی برادری کا رد عمل

Child marriage



 وفاقی آئینی عدالت کے 26 مارچ 2026  ماریہ بی بی کیس فیصلے کے بعد پاکستانی مسیحی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کارکنوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا  ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کم عمر لڑکیوں کے اغوا، زبردستی مذہب تبدیل کرنے اور بچوں کی شادیوں کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے، جو اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

اقلیتی حقوق کے لیےکام کرنے والے افراد اور تنظیموں کے ایک گروپ’ مینارٹی رائٹس مارچ‘ نے اس فیصلے کی مذمت کی ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہ

"یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 36 جو مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کی ریاستی ضمانت ہے کی نفی کرتا ہے ، اور ان مجرمانہ عناصر کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو اغوا، بچوں کو ورغلانے اور کم عمری کی شادی جیسے جرائم کے ذریعے جبری مذہب کی تبدیلی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ہم اس غیر قانونی فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہیں اور پاکستان کے اٹارنی جنرل اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد نظرثانی کی اپیل دائر کریں، نیز صوبائی اسمبلیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے 'چائلڈ میرج ریسٹرینٹ قوانین' میں ترمیم کر کے انہیں بلوچستان چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کی دفعہ 7 کے مطابق بنائیں، جو کم عمری کی شادی میں نکاح کو کالعدم قرار دیتا ہے، تاکہ اس طرح کی مضحکہ خیز تشریحات کا خاتمہ ہو سکے۔"

لاہور پریس کلب میں رواداری تحریک پاکستان، جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے انسانی حقوق اور دیگر تنظیموں، سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنماوں نے ایک پریس کانفرس کا انعقاد کیا۔ جس میں ماریا شہباز کیس میں وفاقی آئینی عدالت کے حالیہ فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

رواداری تحریک کے چیئرمین سیمسن سلامت اور دیگر رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس فیصلےنے کم عمر معصوم مسیحی اور ہندو برادری کی بچیوں کو مزید غیر محفوظ بنا دیا ہے۔

 انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے وکیل لعزر اللہ رکھانے فیصلےپر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نےفیس بک پر لکھا کہ  اب ہمارے لیے قانونی طور پر کرنے والے کام یہ ھیں کہ کرسچن میرج کو اپنے معروضی حالات کے مطابق نئے سرے سے مرتب کیا جاۓ اور چائلڈ میرج ایکٹ میں نابالغ بچیوں کی شادی کو ابتدائی طور پر ھی کالعدم یعنی منسوخ تصور کیے جانے سمیت سٹیچٹری ریپ کی ترامیم کروائی جائیں

سیاسی  کارکن نپولین قیوم نے کہا، ہم اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی فیصلے کی پرزور مخالفت اور مذمت کرتے ہیں۔ ہم ریاست پر زور دیتے ہیں کہ وہ آگے بڑھے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے ایک 'ماں' کا کردار ادا کرے۔ ریاستی قیادت کو گورنر محمد سرور کی مثال پر عمل کرنا چاہیے، جنہوں نے ایک سکھ لڑکی کو، جسے زبردستی مذہب تبدیل کروا کر شادی کر دی گئی تھی، بازیاب کروایا اور اسے اس کے خاندان کے حوالے کیا۔ بصورتِ دیگر، ہم اس معاملے کو مزید آگے لے کر جائیں گے—یہاں تک کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) اور اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC) تک، جیسا کہ متاثرہ خاندان کا حق ہے۔

ڈاکٹرعادل غوری چئیرمین مسیحی تحریک بیداری نے کہا کہ یہ فیصلہ انتہائی مایوس کن ہے ۔

  اعجاز عالم  ,مسلم لیگ نواز کے اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی پنجاب  نے فیس بک پوسٹ میں لکھا    ’’قابلِ اعتراض پہلو یہ ہے کہ عدالت نے ایک کمسن بچی کی رضامندی کو فیصلہ کن حیثیت دے دی ‘‘

 سابقہ رکن صوبائی اسمبلی، وکیل اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن میری جیمس گِل نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنے 150 سالہ قدیم مسیحی عائلی قوانین کو موجودہ معروضی حالات کے مطابق تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ موجودہ مسیحی شادی قوانین کے تحت نکاح کے لیے لڑکی کی کم از کم عمر 13 سال اور لڑکے کی عمر 16 سال مقرر ہے،  یعنی ہمارے اپنے قوانین ۱۳ سال  کی بچی کو شادی کی اجازت دیتے ہیں  اور  نکاح کے لیے فریقین میں سے کسی ایک کا مسیحی ہونا کافی ہے۔ صحافی اور انسانی حقوق کے علمبردار سلیم اقبال سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہمیں اپنی بچیوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینی ہوگی تاکہ انہیں معاشی اور سماجی طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔ تاکہ کوئی ان کا استحصال نہ کرنے پائے "

 


مزید پڑھیں:

مسیحی خاتون کی مسلمان مرد سے شادی قانونی قرار، والد کی درخواست خارج: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ

پنجاب اسمبلی میں اقلیتی املاک کے تحفظ کا بل 2026 : چند گزارشات

 

Web Desk

ہر نیوز انٹرنیٹ کی دُنیا میں ہر خبر کو اردوپڑھنے اور بولنے والوں کے لیے بروقت فراہم کرتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی