![]() |
کینٹربری کیتھڈرل کے مغربی دروازے پر جب سارہ ملنی نے اپنے روایتی عصا (Staff) سے تین بار دستک دی، تو یہ صرف ایک
دروازہ کھلنے کی آواز نہیں تھی بلکہ صدیوں سے قائم مردوں کی اجارہ داری کے خاتمے کا اعلان تھا۔ اس پروقار تقریب میں شاہی
خاندان کے اراکین، بشمول شہزادہ ولیم اور کیتھرین (پرنس اینڈ پرنسس آف ویلز)، اور دنیا بھر سے مذہبی رہنماؤں نے
شرکت کی۔
سارہ مللی، جو اس سے قبل 'بشپ آف لندن' رہ چکی ہیں اور پیشے کے لحاظ سے نرس رہی ہیں، اب جسٹن ویلبی کی جگہ لیں گی۔
انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں امن، شفا اور چرچ میں اصلاحات کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ انگلستان کے سرکاری چرچ (Church of England) کا سب سے بڑا مذہبی عہدہ ہے۔ یہ برطانیہ کے بادشاہ/ملکہ کے بعد
چرچ
کی سب سے اہم شخصیت ہوتے ہیں۔ وہ نہ صرف برطانیہ بلکہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے 'انگلیکن کمیونٹی' کے روحانی پیشوا مانے
جاتے ہیں۔ یہ عہدہ سن 597ء سے قائم ہے، اور سارہ ملنی اس منصب پر بیٹھنے والی 106 ویں شخصیت ہیں۔
یہ انگلینڈ کا سرکاری چرچ ہے جس کی بنیاد 16ویں صدی میں رکھی گئی تھی۔ برطانیہ کا بادشاہ اس چرچ کا 'سپریم گورنر' ہوتا
ہے۔ یہ چرچ دنیا بھر میں پروٹسٹنٹ (Protestant) مسیحیوں کی ایک شاخ کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ان تمام چرچوں کا ایک بین الاقوامی نیٹ ورک ہے جو 'چرچ آف انگلینڈ' کے عقائد سے جڑے ہوئے
ہیں۔ اس نیٹ ورک میں دنیا کے 165 سے زائد ممالک کے تقریباً 8 کروڑ 50 لاکھ افراد شامل ہیں۔ آرچ بشپ آف کینٹربری اس پوری عالمی برادری کے علامتی سربراہ ہوتے ہیں۔
سارہ مللی کی زندگی بہت متاثر کن ہے۔ وہ ایک سابقہ کینسر نرس ہیں جنہوں نے برطانیہ کے محکمہ صحت (NHS) میں اعلیٰ خدمات
انجام دیں اور 'چیف نرسنگ آفیسر' کے عہدے تک پہنچیں۔ بعد ازاں انہوں نے مذہب کی طرف رجوع کیا اور 2018 میں
لندن کی پہلی خاتون بشپ بنیں۔ اب ان کا آرچ بشپ بننا خواتین کی مذہبی قیادت کی تاریخ میں ایک بہت بڑا سنگ میل ہے۔
مزید پڑھیں:
چرچ آف پاکستان نے اینگلیکن چرچ کی نئی آرچ بشپ کی تقرری پر تشویش کا اظہار کیا ہے
برطانیہ میں پہلی مرتبہ خاتون اور ہم جنس پرست آرچ بشپ کی تقرری
چرچ آف انگلینڈ اور ویٹی کن500 سال بعد قریب : پوپ اور بادشاہ چارلس کی اکٹھے عبادت
