ممبئی (31 مارچ 2026): بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور سابق مس یونیورس لارا دتہ نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں کا ایک
انتہائی خوفناک تجربہ شیئر کیا ہے، جس میں وہ سمندر میں ڈوبتے ڈوبتے بچی تھیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں لارا دتہ نے اپنی ڈیبیو فلم "انداز" (2003) کی شوٹنگ کے دوران پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات
بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے ڈراؤنا تجربہ تھا۔ اداکارہ کے مطابق، فلم کے ایک رقص کے منظر کی شوٹنگ کے
دوران سمندر کی ایک تیز لہر انہیں اور ان کے ساتھی اداکار اکشے کمار کو گہرے پانی میں کھینچ کر لے گئی۔
"میں پتھر کی طرح ڈوب رہی تھی"
لارا دتہ نے اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا، "میں نے چمڑے (لیتھڑ) کا لباس پہن رکھا تھا اور مجھے تیراکی بالکل نہیں آتی
تھی۔ جیسے ہی میں پانی کے اندر گئی، میں ایک پتھر کی طرح تیزی سے نیچے جانے لگی۔"
اداکارہ نے بتایا کہ اگر اس وقت ان کے کو-اسٹار اکشے کمار نے فوری ردعمل نہ دکھایا ہوتا تو صورتحال انتہائی تشویشناک ہو
سکتی تھی۔ اکشے کمار نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے لارا کو پانی سے نکالا اور ساحل تک پہنچایا۔ اس واقعے کے بعد لارا شدید
صدمے (Hypothermic shock) کا شکار ہو گئی تھیں، جس کے باعث شوٹنگ کو فوری طور پر روک کر انہیں ہسپتال
منتقل کرنا پڑا۔
خوف پر قابو پانے کی کہانی
اس واقعے نے لارا کے دل میں پانی کا گہرا خوف پیدا کر دیا تھا۔ سالوں بعد جب اکشے کمار نے انہیں اپنی فلم "بلیو" (Blue)
میں کام کرنے کا مشورہ دیا، جو کہ پانی کے اندر فلمائی جانے والی ایک ایکشن فلم تھی، تو لارا نے ابتدا میں شدید ہچکچاہٹ کا
اظہار کیا اور فلم کرنے سے انکار کر دیا۔
لارا نے بتایا کہ اس وقت اکشے کمار نے انہیں ایک سادہ سا مشورہ دیا: "تیراکی سیکھ لو۔" لارا نے ہنستے ہوئے بتایا کہ 30 برس کی
عمر میں تیراکی اور ڈائیونگ سیکھنے کا خیال انہیں شروع میں پاگل پن لگا، لیکن انہوں نے اس چیلنج کو قبول کیا اور اپنے خوف پر
قابو پا کر فلم کے لیے تربیت حاصل کی۔
یہ انکشاف اداکارہ کے مداحوں میں زیر بحث ہے، جو لارا کی ہمت اور اکشے کمار کے بروقت اقدام کو سراہ رہے ہیں۔
