یوٹیوب شارٹس اور ریلز ذہنی صحت کے لیے خطرناک قرار! عدالت کا تاریخی فیصلہ

Youtube shorts and Reels are dangerous for mental health.

امریکی عدالت کا تاریخی فیصلہ: یوٹیوب شارٹس اور میٹا (انسٹاگرام ریلز) کی لت پر کمپنیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا
لاس اینجلس (29 مارچ 2026) — امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے سوشل میڈیا کی بڑی کمپنیوں میٹا (جو انسٹاگرام، فیس بک اور ریلز چلاتی ہے) اور گوگل (یوٹیوب کے مالک) کے خلاف ایک اہم مقدمے میں تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے دونوں کو نوجوان صارفین کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔ جیوری نے کمپنیوں کے شارٹ ویڈیوز (یوٹیوب شارٹس) اور ریلز (انسٹاگرام ریلز) سمیت پلیٹ فارمز کے نشہ آور ڈیزائن کو وجہ قرار دیا۔یہ کیس ایک 20 سالہ خاتون "کے جی ایم" نے دائر کیا تھا، جس نے الزام لگایا کہ بچپن میں انسٹاگرام ریلز اور یوٹیوب شارٹس کی لت نے اس کی ذہنی صحت کو شدید نقصان پہنچایا۔ اسے ڈپریشن، اینگزائٹی، باڈی ڈسمورفیا اور خودکشی کے خیالات کا سامنا کرنا پڑا۔ جیوری نے سات ہفتوں کی سماعت اور 40 گھنٹوں سے زائد مشاورت کے بعد بدھ کو فیصلہ سنایا کہ دونوں کمپنیاں غفلت (negligence) کا مرتکب ہوئیں۔فیصلے کی تفصیلاتجیوری نے قرار دیا کہ:
  • میٹا اور یوٹیوب نے اپنے پلیٹ فارمز کو جان بوجھ کر ایسے ڈیزائن کیا جو نوجوانوں کو نشہ کی طرح عادی بنا دیتا ہے۔
  • کلیدی فیچرز جیسے انفینٹ اسکرول (لامحدود اسکرولنگ)، آٹو پلے (خودکار چلنے والی ویڈیوز)، نوٹیفیکیشنز اور الگورتھم جو صارف کو گھنٹوں تک ویڈیوز دیکھنے پر مجبور کرتے ہیں، خطرناک ہیں۔
  • کمپنیاں جانتی تھیں کہ یہ فیچرز بچوں اور نوجوانوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں، لیکن انہوں نے مناسب وارننگ نہیں دیں اور نہ ہی حفاظتی اقدامات کیے۔
جیوری نے تلافی کے ہرجانے (compensatory damages) کے طور پر 3 ملین ڈالر (تقریباً 83 کروڑ پاکستانی روپے) کا حکم دیا، جس میں میٹا پر 70 فیصد (2.1 ملین ڈالر) اور یوٹیوب پر 30 فیصد (900 ہزار ڈالر) ذمہ داری عائد کی گئی۔ اس کے علاوہ تعزیری ہرجانے (punitive damages) بھی 3 ملین ڈالر کے قریب مقرر کیے گئے، جس سے کل رقم 6 ملین ڈالر (تقریباً 1.66 ارب روپے) تک پہنچ گئی۔یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ جیوری کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ پوسٹس یا ویڈیوز کے مواد پر توجہ نہ دے، بلکہ صرف پلیٹ فارم کے ڈیزائن اور آپریشن پر غور کرے۔ سیکشن 230 (جو کمپنیوں کو صارفین کے مواد سے قانونی تحفظ دیتا ہے) کے باوجود، ڈیزائن کی غفلت پر ذمہ داری عائد کی گئی۔کمپنیوں کا ردعملمیٹا نے فیصلے سے "احترام کے ساتھ اختلاف" کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ قانونی اپیل کے اختیارات کا جائزہ لے رہا ہے۔ یوٹیوب کی طرف سے بھی اس فیصلے کو چیلنج کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ماہرین کا نقطہ نظر اور ممکنہ اثراتماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا ایسا جیوری فیصلہ ہے جس میں سوشل میڈیا کمپنیوں کو ان کے پروڈکٹ کے نشہ آور ڈیزائن کی وجہ سے ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ یہ سینکڑوں زیر التوا مقدمات پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے، جن میں والدین اپنے بچوں کی ذہنی صحت کے نقصان کا الزام لگا رہے ہیں۔یہ فیصلہ بگ ٹیک کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے اور ممکنہ طور پر نئی ریگولیشنز کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین اسے "ٹوبیکو انڈسٹری" والے دور کی طرف اشارہ قرار دے رہے ہیں، جہاں کمپنیاں اپنے پروڈکٹس کی لت اور نقصانات کی وجہ سے ذمہ دار ٹھہرائی گئی تھیں۔نیو میکسیکو میں ایک الگ کیس میں بھی میٹا پر 375 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے، جو بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ نہ رکھنے سے متعلق تھا۔پس منظرگزشتہ برسوں میں سوشل میڈیا کی لت، خاص طور پر شارٹ فارم ویڈیوز جیسے یوٹیوب شارٹس اور انسٹاگرام ریلز، نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل میں اضافے کا باعث بننے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ الگورتھم صارف کو ذاتی دلچسپی کے مطابق ویڈیوز دکھاتا ہے، جو اسے گھنٹوں تک اسکرین پر روکے رکھتا ہے۔یہ فیصلہ والدین، ماہرین تعلیم اور پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم پیغام ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنے پروڈکٹس کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔(نوٹ: یہ رپورٹ مختلف معتبر ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ کمپنیاں اپیل کا حق رکھتی ہیں، اس لیے حتمی نتیجہ تبدیل ہو سکتا ہے۔)

Web Desk

ہر نیوز انٹرنیٹ کی دُنیا میں ہر خبر کو اردوپڑھنے اور بولنے والوں کے لیے بروقت فراہم کرتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی