ملالہ نے دنیا کو جھنجھوڑ دیا: بچوں کی ہلاکت پرعالمی خاموشی ناقابل قبول ہے

Malala Yousafzai
(picture courtesy:@Malala)



نیویارک (9 مارچ 2026) — نوبل امن انعام یافتہ اور لڑکیوں کی تعلیم کی عالمی علمبردار ملالہ یوسفزئی نے اقوام متحدہ میں ایک جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ "حقیقی انصاف یہ نہیں کہ ایک جگہ بچوں کی انسانیت کا دفاع کیا جائے اور دوسری جگہ اسے نظر انداز کر دیا جائے"۔ملالہ نے اپنی تقریر میں ایران، غزہ اور افغانستان میں لڑکیوں اور بچوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے دنیا کو جھنجھوڑ دیا۔ انہوں نے ایران کے شہر مناب میں 28 فروری کو ہونے والے اسکول پر فضائی حملے کا حوالہ دیا جس میں 165 سے زائد طالبات شہید ہوئیں اور کئی زخمی ہوئیں۔ ملالہ نے کہا کہ "ایران کے خاندانوں کی بیٹیاں سکول گئیں اور گھر واپس نہ لوٹ سکیں"۔انہوں نے غزہ کا بھی ذکر کیا جہاں کلاس رومز کے ملبے تلے بچوں کو دفنایا جا رہا ہے اور والدین اپنے بچوں کی لاشوں کو تلاش کر رہے ہیں۔سب سے زیادہ توجہ انہوں نے افغانستان پر مرکوز کی جہاں طالبان نے 2021 سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگا رکھی ہے۔ ملالہ نے اسے "جنس کی بنیاد پر نسل پرستی" (gender apartheid) قرار دیتے ہوئے کہا کہ طالبان نے ایک ایسا نظام بنایا ہے جس میں خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، ملازمت اور عوامی زندگی سے مکمل طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ وقت آ گیا ہے کہ دنیا اسے تسلیم کرے اور اسے ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے"۔ملالہ نے اپنی تقریر کے دوران زور دیا کہ "خطابات لڑکیوں کی حفاظت نہیں کرتے، بلکہ قانون، احتساب اور سیاسی ہمت کر سکتی ہے"۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ جنس کی بنیاد پر نسل پرستی کو بین الاقوامی قانون کے تحت جرم قرار دیا جائے تاکہ افغان لڑکیوں سمیت دنیا بھر میں متاثرہ خواتین کو انصاف مل سکے۔یہ تقریر اس وقت سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور ایران پر حالیہ فضائی حملوں نے عالمی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔ ملالہ کی تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اسے سراہا ہے جبکہ کچھ نے اسے منتخب تنقید قرار دیتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کا نام نہ لینے پر سوال اٹھائے ہیں۔ملالہ فنڈ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس تقریر کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی رہنما الفاظ سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کریں۔

Web Desk

ہر نیوز انٹرنیٹ کی دُنیا میں ہر خبر کو اردوپڑھنے اور بولنے والوں کے لیے بروقت فراہم کرتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی