اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ایک سائیڈ ایونٹ میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یورپ میں مسیحیوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم اور مذہبی آزادی پر قانونی پابندیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
آسٹریا میں کام کرنے والی تنظیم OIDAC Europe کی 2025 رپورٹ کے مطابق، 2024 کے دوران یورپ بھر میں 2,211
مسیحی مخالف نفرت انگیز جرائم ریکارڈ کیے گئے۔ اگرچہ یہ تعداد پچھلے سال کے 2,444 سے قدرے کم ہے، لیکن ذاتی حملوں
میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جو 274 تک پہنچ گیا (پچھلے سال 232 تھے)۔ اس کے علاوہ گرجا گھروں اور مسیحی مقامات پر آگ
کے واقعات میں بھی شدید اضافہ ہوا، جن کی تعداد 94 تک پہنچ گئی جو پچھلے سال سے تقریباً دگنی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فرانس، برطانیہ، جرمنی، سپین اور آسٹریا وہ ممالک ہیں جہاں یہ واقعات سب سے زیادہ ہوئے۔
فرانس اب بھی سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں تقریباً ہزار کے قریب واقعات ریکارڈ ہوئے، جبکہ جرمنی میں آگ
کے ایک تہائی واقعات (33) پیش آئے۔
اقوام متحدہ کے اس ایونٹ میں ماہرین نے بتایا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں کم از کم 760 سے زائد مسیحی
مخالف جرائم درج ہوئے، جن میں گرجا گھروں کو آگ لگانا، مسیحی افراد پر حملے، توہین آمیز رویہ اور قبرستانوں کی بے حرمتی
شامل ہے۔
اس کے علاوہ قانونی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ کئی یورپی ممالک میں عوامی جگہوں پر نماز پڑھنے، اسکولوں میں صلیب لگانے، اور
مذہبی عقائد کے اظہار پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ بعض علاقوں میں اسقاط حمل کلینکوں کے آس پاس "بفر زونز" بنا کر
پرامن دعا کرنے والوں کو جرمانے اور سزائیں دی جا رہی ہیں۔
پیرس میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کی تصاویر میں مظاہرین نے مسیحیت کے خلاف حملوں کو روکنے کا مطالبہ
کرتے ہوئے بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر حضرت مسیح کی تصویر اور فرانس، قطر، کیمرون اور ویتنام سمیت مختلف ممالک میں ہونے والے واقعات کا ذکر تھا۔
تنظیم نے یورپی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ نفرت انگیز جرائم کی بہتر نگرانی کی جائے، پولیس کو مناسب تربیت دی جائے
اور مذہبی امتیاز کے خلاف تعلیم کو فروغ دیا جائے تاکہ مسیحی برادری کو تحفظ مل سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان نہ صرف مسیحیوں کی مذہبی آزادی کو خطرے میں ڈال رہا ہے بلکہ یورپ کی سیکولر اقدار اور
رواداری کے دعووں پر بھی سوال اٹھا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
برطانیہ میں اگلے پانچ سالوں میں 2000 چرچ بند ہو سکتے ہیں - سروے رپورٹ
انڈیا میں مسیحیوں پر بڑھتے ہوئے تشدد کے خلاف یونائیٹڈ کرسچن فورم انڈیا کا پوپ کو خط
یورپ میں مسیحیت کا زوال اور مسّرف بیٹا
مسیحی مخالف نفرت انگیز جرائم ریکارڈ کیے گئے۔ اگرچہ یہ تعداد پچھلے سال کے 2,444 سے قدرے کم ہے، لیکن ذاتی حملوں
میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جو 274 تک پہنچ گیا (پچھلے سال 232 تھے)۔ اس کے علاوہ گرجا گھروں اور مسیحی مقامات پر آگ
کے واقعات میں بھی شدید اضافہ ہوا، جن کی تعداد 94 تک پہنچ گئی جو پچھلے سال سے تقریباً دگنی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فرانس، برطانیہ، جرمنی، سپین اور آسٹریا وہ ممالک ہیں جہاں یہ واقعات سب سے زیادہ ہوئے۔
فرانس اب بھی سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں تقریباً ہزار کے قریب واقعات ریکارڈ ہوئے، جبکہ جرمنی میں آگ
کے ایک تہائی واقعات (33) پیش آئے۔
اقوام متحدہ کے اس ایونٹ میں ماہرین نے بتایا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں کم از کم 760 سے زائد مسیحی
مخالف جرائم درج ہوئے، جن میں گرجا گھروں کو آگ لگانا، مسیحی افراد پر حملے، توہین آمیز رویہ اور قبرستانوں کی بے حرمتی
شامل ہے۔
اس کے علاوہ قانونی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ کئی یورپی ممالک میں عوامی جگہوں پر نماز پڑھنے، اسکولوں میں صلیب لگانے، اور
مذہبی عقائد کے اظہار پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ بعض علاقوں میں اسقاط حمل کلینکوں کے آس پاس "بفر زونز" بنا کر
پرامن دعا کرنے والوں کو جرمانے اور سزائیں دی جا رہی ہیں۔
پیرس میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کی تصاویر میں مظاہرین نے مسیحیت کے خلاف حملوں کو روکنے کا مطالبہ
کرتے ہوئے بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر حضرت مسیح کی تصویر اور فرانس، قطر، کیمرون اور ویتنام سمیت مختلف ممالک میں ہونے والے واقعات کا ذکر تھا۔
تنظیم نے یورپی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ نفرت انگیز جرائم کی بہتر نگرانی کی جائے، پولیس کو مناسب تربیت دی جائے
اور مذہبی امتیاز کے خلاف تعلیم کو فروغ دیا جائے تاکہ مسیحی برادری کو تحفظ مل سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان نہ صرف مسیحیوں کی مذہبی آزادی کو خطرے میں ڈال رہا ہے بلکہ یورپ کی سیکولر اقدار اور
رواداری کے دعووں پر بھی سوال اٹھا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
برطانیہ میں اگلے پانچ سالوں میں 2000 چرچ بند ہو سکتے ہیں - سروے رپورٹ
انڈیا میں مسیحیوں پر بڑھتے ہوئے تشدد کے خلاف یونائیٹڈ کرسچن فورم انڈیا کا پوپ کو خط
یورپ میں مسیحیت کا زوال اور مسّرف بیٹا
