فلبوس کرسٹوفر کا بل اور رامیش سنگھ اروڑہ کی کمیٹی: اور ترامیم کھٹائی میں

 

Ramesh Singh Arora Falbous Christopher


پنجاب کی سیاست میں ان دنوں ایک عجیب و غریب صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے، جہاں عوامی مفاد کے منصوبے  "نمبر گیم" کی نذر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ خاص طور پر مسیحی برادری کے عائلی قوانین (Christian Family Laws) میں ترمیم کا معاملہ، جو کئی دہائیوں سے اصلاحات کا منتظر ہے، ماضی کی طرح اب بھی اقلیتی ممبران  ہی کی باہمی چپقلش اور سیاسی  پوائنٹ اسکورنگ کی بھینٹ چڑھتا نظر آ رہا ہے۔

 

حکومتِ پنجاب کی وزارتِ انسانی حقوق و اقلیتی امور نے صوبائی وزیر سردار رامیش سنگھ اروڑہ کی سربراہی میں6 اپریل کو  ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی، جس کا مقصد تمام مذہبی، سیاسی اور سماجی اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایک جامع ترمیمی مسودہ تیار کرنا تھا۔ منطق سادہ تھی: عائلی قوانین جیسے حساس معاملے پر جب تک اتفاقِ رائے نہ ہو، اس وقت تک تبدیلی پائیدار نہیں ہو سکتی۔

 

مگر حیرت کی انتہا اس وقت ہوئی جب اسی حکومتی پارٹی (مسلم لیگ ن) کے رکنِ اسمبلی فلبوس کرسٹوفر نے 9 اپریل کواچانک ایک "پرائیویٹ ممبر بل" اسمبلی میں جمع کرا دیا۔ یہ اقدام نہ صرف پارلیمانی روایات کے خلاف ہے بلکہ یہ براہِ راست اپنی ہی حکومت اور متعلقہ وزیر کے اختیار کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔

 

قانون سازی کے طالب علم جانتے ہیں کہ جب حکومت کسی معاملے پر کمیٹی بنا چکی ہو، تو اسی پارٹی کا رکن "پرائیویٹ ممبر" کے طور پر بل لا کر دراصل یہ پیغام دیتا ہے کہ اسے اپنی ہی حکومت کی پالیسی پر اعتماد نہیں۔ فلبوس کرسٹوفر آئے دن بطورپرائیویٹ ممبر  کوئی نہ کوئی بل جمع کروا دیتے ہیں کا یہ قدم سوشل میڈیا پر واہ واہ سمیٹنے کے لیے تو اچھا ہو سکتا ہے، لیکن عملی طورپر یہ ترمیمی عمل کو "کولڈ اسٹوریج" میں ڈالنے کا سبب بنے گا۔ 

 

سنجیدہ حلقے بخوبی جانتے ہیں کہ حکومت کی حمایت اور مشاورتی عمل کے بغیر کوئی بھی پرائیویٹ بل قانون کی شکل اختیار نہیں کرپاتا۔  حکومت میں شامل ممبر کا پرائیویٹ بل جمع  کروانا اپنی حکومت، کابینہ اور وزارت قانون اور دیگر متعلقہ وزاتوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہوتا ہے ۔ 

یہ صورتحال مسلم لیگ (ن) کے اندرونی نظم و ضبط (Party Discipline) پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیا پارٹی قیادت اس قدر بے خبر ہے کہ اس کے اراکین ایک دوسرے کے کام میں مداخلت کر رہے ہیں؟ ایک طرف حکومت نے مسیحی  مذہبی رہنماوں اور سماجی ماہرین پر مشتمل سرکاری کمیٹی ابھی قائم کی ہے اس کی ابھی کوئی میٹنگ بھی نہیں ہوئی ،اور دوسری طرف  اسی حکومت  کے ایک نمائیدے نے بل بھی جمع کروا دیا ہے ۔ اس ا نفرادی کوشش نے پورے عمل کومتنازع بنا دیا ہے۔ یہ "کریڈٹ لینے کی جنگ" مسیحی برادری کے دیرینہ مسائل کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

مسیحی عائلی قوانین (نکاح، طلاق اور وراثت) میں ترامیم محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں سے جڑا معاملہ ہے۔خاص طور پر اقلیتوں کے مذہبی اور سماجی معمولات سے جڑے قوانین میں ترمیم ایک بڑا صبر آزما کام ہے۔ اس میں صرف قانونی پہلو نہیں بلکہ مذہبی حساسیت، سماجی رسوم، چرچ کی روایات اور برادری کے مختلف فرقوں (کیتھولک، پروٹسٹنٹ وغیرہ) کے درمیان ہم آہنگی بھی شامل ہوتی ہے۔ اگر ایک طرف کمیٹی مشاورت کر رہی ہو اور دوسری طرف پرائیویٹ بل آ جائے تو یہ عمل میں انتشار پیدا کرتا ہے۔ سنجیدہ حلقے جانتے ہیں کہ اس طرح کے بل آسانی سے پاس نہیں ہوتے۔ انہیں اسمبلی کی کمیٹیوں سے گزرنا پڑتا ہے، بحث ہوتی ہے، اعتراضات اٹھتے ہیں جب اقلیتی نمائندے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ایسے حساس معاملات کو ڈھال بناتے ہیں، تو نقصان  صرف اور صرف عوام کا ہوتا ہے۔

اگر فلبوس کرسٹوفر واقعی سنجیدہ تھے، تو انہیں اپنی ہی پارٹی کے وزیر کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے تھا۔ اور وزیر صاحب کوبھی چاہیے کہ اپنی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین کو بھی اعتما د میں لیں۔ 

  اس وقت جو صورتحال پیدا ہو چکی ہے، اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسیحی عائلی قوانین میں ترمیم کا معاملہ ایک بار پھرکھٹائی میں پڑ جائے گا۔ حکومتِ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو چاہیے کہ وہ اس بے ہنگم سیاسی طرزِ عمل کا نوٹس لے، ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جب اپنوں میں ہم آہنگی ختم ہو جائے، تو منزل کبھی حاصل نہیں ہوتی۔

مزید پڑھیں:

کرسچن پرسنل لا میں اصلاحات کے لیے پنجاب میں اعلیٰ سطح کی تکنیکی کمیٹی قائم

ماریہ شہباز کیس:مسیحی قیادت کا اظہارِ تشویش، نظرثانی اپیل دائر کرنے کا اعلان

مسیحی خاتون کی مسلمان مرد سے شادی قانونی قرار، والد کی درخواست خارج: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ

 

Azher Adil

میں تاریخ، جغرافیہ اور سیاست کو اس زاویے سے لکھنے کی جسارت کرتا ہوں کہ پاکستانی مذہبی اقلیتیں خصوصاً مسیحی سوچیں بھی، مسکرائیں بھی اور کبھی کبھار آئینہ دیکھ کر چونک بھی جائیں۔ 😄

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی