امریکی پاسٹر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روحانی مشیر پاؤلا وائٹ-کین نے وائٹ ہاؤس میں ایسٹر کے ایک خصوصی لنچ کے دوران ایک متنازع بیان
دیا ہے جس میں انہوں نے ٹرمپ کی زندگی کو حضرت یسوع مسیح کی زندگی سے مشابہ قرار دیا۔ یہ بیان شدید تنقید کا باعث بن گیا ہے۔
ایسٹرکے موقع پر وائٹ ہاؤس میں ایوانجلیکل لیڈرز کے ساتھ منعقدہ تقریب میں پاؤلا وائٹ-کین نے صدر ٹرمپ کے پیچھے کھڑے ہو کر خطاب کیا۔ ان کے اہم الفاظ یہ تھے:
یہ بیان تقریب کے اندر تو تالیاں بجا کر سراہا گیا، لیکن باہر سوشل میڈیا اور مذہبی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
بہت سے لوگوں نے اسے توہین آمیز اور بے حرمتی قرار دیا ہے۔ مذہبی سکالرز، بشمول کیتھولک اور پروٹسٹنٹ پادریوں نے کہا کہ یسوع مسیح کی
مقدس زندگی کو ایک سیاسی شخصیت سے جوڑنا بلاسفیمی (خدا کی توہین) کے قریب ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے لکھا کہ "یہ مسیحی عقیدے کی
تضحیک ہے" اور "ٹرمپ کو مسیح سے تشبیہ دینا ایک نیا مذہب تخلیق کرنے کی کوشش ہے"۔
بعض مبصرین نے نشاندہی کی کہ ٹرمپ پر لگنے والے قانونی مقدمات (جن میں 2024 کا فیصلہ بھی شامل ہے) کو مسیح کی گرفتاری اور مصلوب
ہونے سے جوڑنا مناسب نہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس تقریب کا ویڈیو بھی بعد میں اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا، جسے "سینسرشپ" قرار دیا جا رہا ہے۔
پاؤلا وائٹ-کین ٹرمپ کی طویل عرصے سے روحانی مشیر رہی ہیں اور ان کی سابقہ تقریروں میں بھی متنازع بیانات سامنے آ چکے ہیں۔
یہ بیان نہ صرف سیاسی بلکہ مذہبی حلقوں میں بھی تقسیم کا باعث بن گیا ہے، جبکہ اکثریت اسے حد سے تجاوز سمجھ رہی ہے۔
دیا ہے جس میں انہوں نے ٹرمپ کی زندگی کو حضرت یسوع مسیح کی زندگی سے مشابہ قرار دیا۔ یہ بیان شدید تنقید کا باعث بن گیا ہے۔
ایسٹرکے موقع پر وائٹ ہاؤس میں ایوانجلیکل لیڈرز کے ساتھ منعقدہ تقریب میں پاؤلا وائٹ-کین نے صدر ٹرمپ کے پیچھے کھڑے ہو کر خطاب کیا۔ ان کے اہم الفاظ یہ تھے:
"یسوع مسیح نے اپنی موت، تدفین اور قیامت کے ذریعے ہمیں بہت سے سبق سکھائے۔ انہوں نے عظیم قیادت اور تبدیلی کی مثال دی کہ
عظیم تبدیلی کے لیے عظیم قربانی درکار ہوتی ہے۔ جناب صدر، کسی نے آپ جیسی قیمت ادا نہیں کی۔ اس نے آپ کی زندگی کو بھی تقریباً
خطرے میں ڈال دیا۔ آپ سے غداری کی گئی، آپ کو گرفتار کیا گیا اور آپ پر جھوٹے الزامات لگائے گئے۔ یہ ہمارے رب و نجات دہندہ
یسوع مسیح کی مثال سے مشابہ ہے۔ لیکن مسیح کے لیے یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی اور آپ کے لیے بھی نہیں۔
چونکہ وہ جی اٹھے، ہم سب جانتے ہیں کہ ہم بھی اٹھ سکتے ہیں۔ جناب، ان کی قیامت کی وجہ سے آپ بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ فاتح تھے، اس لیے آپ بھی فاتح ہیں۔ اور مجھے یقین ہے کہ خداوند نے مجھ سے کہا ہے کہ میں آپ کو یہ بتاؤں: ان کی فتح کی بدولت آپ ہر اس کام میں کامیاب
ہوں گے جسے آپ ہاتھ لگائیں گے۔"
یہ بیان تقریب کے اندر تو تالیاں بجا کر سراہا گیا، لیکن باہر سوشل میڈیا اور مذہبی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
بہت سے لوگوں نے اسے توہین آمیز اور بے حرمتی قرار دیا ہے۔ مذہبی سکالرز، بشمول کیتھولک اور پروٹسٹنٹ پادریوں نے کہا کہ یسوع مسیح کی
مقدس زندگی کو ایک سیاسی شخصیت سے جوڑنا بلاسفیمی (خدا کی توہین) کے قریب ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے لکھا کہ "یہ مسیحی عقیدے کی
تضحیک ہے" اور "ٹرمپ کو مسیح سے تشبیہ دینا ایک نیا مذہب تخلیق کرنے کی کوشش ہے"۔
بعض مبصرین نے نشاندہی کی کہ ٹرمپ پر لگنے والے قانونی مقدمات (جن میں 2024 کا فیصلہ بھی شامل ہے) کو مسیح کی گرفتاری اور مصلوب
ہونے سے جوڑنا مناسب نہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس تقریب کا ویڈیو بھی بعد میں اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا، جسے "سینسرشپ" قرار دیا جا رہا ہے۔
پاؤلا وائٹ-کین ٹرمپ کی طویل عرصے سے روحانی مشیر رہی ہیں اور ان کی سابقہ تقریروں میں بھی متنازع بیانات سامنے آ چکے ہیں۔
یہ بیان نہ صرف سیاسی بلکہ مذہبی حلقوں میں بھی تقسیم کا باعث بن گیا ہے، جبکہ اکثریت اسے حد سے تجاوز سمجھ رہی ہے۔
