پنجاب اسمبلی میں حال ہی میں
فلبوس کرسٹوفر، ایم پی اے اور چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور، کی جانب سے
بطور پرائیویٹ ممبر 'پنجاب تحفظِ حقوقِ مذہبی اقلیت بل 2026' پیش
کیا گیا ہے۔ یہ بل اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک مثبت قدم ہے، جس میں جبری
تبدیلیِ مذہب کو ایک باقاعدہ فوجداری جرم قرار دیتے ہوئے قصورواروں کے لیے پانچ
سال تک قید اور جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے ۔ اس بل کے تحت عدالتوں کو یہ
اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ جبری شادیوں کے مقدمات میں حفاظتی احکامات جاری کر
سکیں۔ اگرچہ اس قانون کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب تک
مسیحی برادری کے بنیادی شادی اور طلاق کے 150 سالہ پرانے قوانین میں
جامع ترامیم نہیں کی جاتیں، تب تک ایسے حفاظتی بلوں کا خاطر خواہ
فائدہ حاصل نہیں ہو سکے گا ۔ بلکہ شادی اور طلاق کے یہ قوانین ہی
اقلیتوں کا استحصال کرنے والے کے لیے مددگار ثابت ہو رہے ہیں
مسیحی برادری کے عائلی معاملات
آج بھی مسیحی شادی ایکٹ 1872 اور مسیحی طلاق ایکٹ 1869 کے تحت چلائے
جا رہے ہیں، جو برطانوی دور کی باقیات ہیں اور موجودہ دور کے تقاضوں سے میل نہیں
کھاتے۔ سب سے پہلا اور فوری حل طلب مسئلہ شادی کے لیے لڑکے اور لڑکی کی کم
از کم عمر کا ہے۔جو لڑکی کے لیے 13 سال اور لڑکے کے لیے 16سال ہے۔
بین الاقوامی قوانین، بچوں کے حقوق کے کنونشن اور انسانی صحت کے اصولوں
کے مطابق شادی کی کم از کم عمر 18 سال ہونی چاہیے ۔ وفاقی
دارالحکومت اسلام آباد کی حد تک تو 'مسیحی شادی (ترمیمی) ایکٹ
2024' کے ذریعے سیکشن 60 میں ترمیم کر کے یہ عمر 18 سال کر دی گئی ہے، لیکن 18 ویں
ترمیم کے بعد عائلی قوانین صوبائی اختیار بن چکے ہیں۔ لہٰذا، پنجاب سمیت دیگر
صوبوں کو چاہیے کہ وہ وفاقی دارالحکومت کی اس ترمیم کو فوری طور پراپنا لیں
تاکہ کم عمری کی شادیوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے استحصال کا خاتمہ ہو سکے۔
موجودہ رائج قانون میں نکاح کے وقت لڑکے اور لڑکی دونوں کا مسیحی ہونا لازمی نہیں ۔ لیکن حالات و واقعات کے پیشِ نظر شادی کے وقت لڑکے اور لڑکی دونوں کا مسیحی ہونا ایک لازمی قانونی تقاضا ہونا چاہیے تاکہ بعد ازاں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ طلاق کے قوانین میں اصلاحات تو ناگزیر ہو چکی ہیں۔ موجودہ قانون کے تحت طلاق حاصل کرنے کے لیے صرف 'زنا کاری' کا الزام لگانا ضروری ہے، جو نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ سماجی طور پر بھی انتہائی نقصان دہ ہے۔ اس سخت اور فرسودہ قانون کی وجہ سے بہت سے لوگ محض قانونی طور پرعلیحدگی یا طلاق حاصل کرنے کے لیے اپنا مذہب تبدیل کر لیتے ہیں۔ یہ امر بھی جبری تبدیلِ مذہب ہی ہے ۔ طلاق کے قوانین کو موجودہ حالات اور واقعات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے تاکہ مسیحی جوڑے عزت و وقار کے ساتھ قانونی علیحدگی اختیار کر سکیں اور انہیں اپنا عقیدہ بدلنے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔
آئین کی 18 ویں ترمیم نے جہاں
صوبوں کو بااختیار بنایا ہے، وہیں یہ مسیحی سیاسی قیادت کے پاس ایک سنہری موقع بھی
ہے کہ وہ موجودہ سیاسی فضا سے فوری فائدہ اٹھاتے ہوئے صوبائی اسمبلیوں میں مسیحی
عائلی قوانین میں جامع ترامیم کے لیے بھرپور لابنگ کریں ۔ نکاح کا اندراج
یونین کونسل اور نادرا میں سہل بنایا جائے اور طلاق کے لیے 'زنا' کی شرط ختم
کی جائے ، اقلیتوں کے تحفظ کے دیگر قوانین صرف ادھوری کامیابی ثابت ہوں گے
، فلبوس کرسٹوفر کا پیش کردہ بل ایک خوش آئند آغاز تو ہے، مگر منزل ابھی دور ہے۔ مسیحی برادری کو ایک ایسے جامع 'کرسچن فیملی لاء' کی ضرورت ہے جو انہیں 150 سالہ پرانے بوجھ سے آزاد کر کے جدید، منصفانہ اور انسانی حقوق کے مطابق تحفظ فراہم کرے ۔ اب گیند صوبائی حکومتوں اور مسیحی قانون سازوں کی کورٹ میں ہے۔ موجود فضا سازگار ہے کہ وہ ان عائلی قوانین کو جلد از جلد عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھالیں۔ تاکہ ان قوانین میں موجود سقم سےجرائم پیشہ افراد فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
