ایسٹر کیوں منایا جاتا ہے؟

Why Christian Celebrate Easter


عیدِ ایسٹر دنیا بھر کے مسیحیوں کا سب سے بڑا اور مقدس تہوار ہے۔ یہ یسوع مسیح کی موت کے تین دن بعد دوبارہ زندہ ہونے (قیامت) کی یاد
میں منایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ موقع مسیحی مذہب اور اس کی بنیادی تعلیمات کو سمجھنے کا ایک اچھا موقع ہو سکتا ہے، کیونکہ یسوع (علیہ
السلام) کو قرآن مجید میں بھی ایک عظیم نبی اور مسیح کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ آئیے، مسیحی روایات اور انجیلوں کے مطابق اس کہانی کو
سادہ الفاظ میں سمجھتے ہیں۔یسوع کی تعلیمات اور یروشلم کا سفر
مسیحی عقیدے کے مطابق یسوع مسیح تقریباً دو ہزار سال پہلے فلسطین کے علاقے میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک سادہ اور نیک انسان تھے جو لوگوں کو
خدا کی محبت، بخشش، اور ایک دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک سکھاتے تھے۔ ان کی تعلیمات میں غریبوں کی مدد، بیماروں کا علاج، اور گناہوں
کی معافی جیسی باتیں شامل تھیں۔
ایک دن یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ یروشلم شہر میں داخل ہوئے۔ لوگوں نے ان کا پرجوش استقبال کیا، کھجور کی شاخیں لہرائیں اور خوشی
سے نعرے لگائے۔ مسیحی روایات میں اس دن کو "پام سنڈے" کہا جاتا ہے۔ لیکن یسوع کی مقبولیت سے مذہبی رہنما اور رومی حکام کو تشویش ہوئی۔
آخری عشائیہ اور خیانت
یروشلم میں جمعرات کی شام یسوع نے اپنے شاگردوں کے ساتھ آخری کھانا کھایا، جسے "لاسٹ سپر" یا آخری عشائیہ کہتے ہیں۔
اسی رات ہی ان کے ایک شاگرد یہوداہ اسکریوتی نے انہیں پیسوں کے بدلے گرفتار کروا دیا۔ ان پر مقدمہ چلایا گیا اور رومی گورنر پنطس پلاطوس
نے انہیں صلیبی موت کی سزا سنائی۔
مصلوبیت کا دن (گوڈ فرائیڈے)
اگلے دن یعنی جمعہ کو مسیحی روایات کے مطابق یسوع کو کوڑوں سے مارا گیا، کانٹوں کا تاج پہنایا گیا اور پھر صليب (کراس) پر چڑھا دیا گیا۔ یہ دن
مسیحیوں کے لیے "گوڈ فرائیڈے" کہلاتا ہے۔ صلیب پر لٹکے ہوئے یسوع نے درد اور اذیت سہی۔ صلیب پر بھی انہوں نے اپنے اذیت دینے والوں کو معاف کیا اور انہوں دُعا دی۔ ان کے پیروکاروں کے لیے یہ ایک بہت ہی غمگین لمحہ تھا۔ شام تک یسوع کی روح جسم سے جدا ہو گئی
اور انہیں ایک غار نما قبر میں دفن کر دیا گیا۔ قبر کے منہ پر بڑا پتھر رکھ دیا گیا اوررومی حکومتی کی طرف سے پہرہ بٹھا دیا گیا تاکہ کوئی لاش نہ چرا سکے۔
قیامت کا معجزہ (ایسٹر سنڈے)
تیسرے دن، یعنی اتوار کے روز، کچھ عورتیں (جن میں مریم مگدلینی بھی شامل تھیں) یسوع کی قبر پر خوشبوئیں لے کر گئیں۔ وہ حیران رہ گئیں جب
دیکھا کہ قبر کا پتھر ہٹا ہوا ہے اور قبر خالی ہے۔ فرشتوں نے انہیں بتایا کہ یسوع زندہ ہو چکے ہیں۔ یہی دن ایسٹر کا ہے ۔ جب مسیحی یسوع کے زندہ ہونے کی عید مناتے ہیں۔
مسیحی عقیدے کے مطابق یسوع نے اپنے شاگردوں کو کئی بار دکھائی دیا، ان کے ساتھ کھانا کھایا اور چالیس دن تک تعلیم دی۔ پھر وہ آسمان پر
چڑھ گئے۔ مسیحیوں کا ماننا ہے کہ یسوع کی یہ قیامت موت پر فتح، گناہوں کی معافی اور ابدی زندگی کی امید کی علامت ہے۔ اسی لیے ایسٹر پر
چرچوں میں خوشی کے گیت گائے جاتے ہیں، انڈے رنگے جاتے ہیں (جو نئی زندگی کی علامت سمجھے جاتے ہیں) اور خاندان ایک دوسرے کے
ساتھ خوشیاں بانٹتے ہیں۔
یہ کہانی مسیحی انجیلوں (متی، مرقس، لوقا اور یوحنا) پر مبنی ہے۔ مسلمانوں کے عقیدے میں یسوع مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) ایک برگزیدہ
نبی ہیں جنہیں معجزات دیے گئے تھے۔ قرآن مجید میں ان کی پیدائش، معجزات اور آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر ہے۔ مسیحی اور مسلمان دونوں یسوع کی پاکیزگی، نیکی اور خدا کی طرف سے بھیجے جانے کو تسلیم کرتے ہیں، البتہ قیامت اور الوہیت کے بارے میں دونوں مذاہب کے عقائد
مختلف ہیں۔
ایسٹر کا تہوار ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ محبت، قربانی اور امید کی طاقت کتنی بڑی ہو سکتی ہے۔ مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کی
روایات کو احترام سے سمجھیں تو دنیا میں امن اور بھائی چارے کا ماحول بن سکتا ہے۔
Web Desk

ہر نیوز انٹرنیٹ کی دُنیا میں ہر خبر کو اردوپڑھنے اور بولنے والوں کے لیے بروقت فراہم کرتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی