![]() |
| AI generated image |
لاہور (نمائندہ خصوصی) — پنجاب حکومت نے کرسچن کمیونٹی کے خاندانی اور وراثت کے قوانین میں موجود خامیوں کو دور کرنے اور انہیں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بنانے کے لیے ایک 37 رکنی ہائی لیول ٹیکنیکل کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
یہ کمیٹی انسانی حقوق اور اقلیتوں کے امور کے محکمے کے تحت قائم کی گئی ہے، جس کا مقصد شادی، طلاق، وراثت اور دیگر خاندانی معاملات، نکاح رجسٹریشن سے متعلق قوانین کا جائزہ لینا اور ان میں ضروری اصلاحات کی سفارشات کرنا ہے۔ خاص طور پر کرسچن خواتین اور کم عمر لڑکیوں کےتحفظ کو یقینی بنانا اس کمیٹی کے اہم اہداف میں شامل ہے۔
کمیٹی کی تشکیل کا پس منظر حالیہ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے (جو کرسچن لڑکیوں کی شادیوں سے متعلق ہیں) ہے۔ ان فیصلے نے کرسچن پرسنل لا میں قانونی خلا کو اجاگر کیا تھا، جس کی وجہ سے اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقوں نے طویل عرصے سے اصلاحات کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
تاہم کچھ ندقدین کے خیال ہے کہ 37 رکنی کمیٹی کمیٹی میں سرکاری افسران اور بیورکریٹس کی تعداد غیر ضروری ہے۔ بیورکریسی کا بنیادی کردار عمل درآمد (implementation) ہوتا ہے، نہ کہ فیصلہ سازی یا قانون سازی۔ قانونی اصلاحات جیسے حساس معاملے میں ماہرین قانون، مذہبی علما، انسانی حقوق کے ماہرین، کرسچن کمیونٹی کے نمائندوں اور سول سوسائٹی کے لوگوں کی غالب نمائندگی زیادہ مناسب ہوتی۔کچھ سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ کمیٹی میں چرچ آف پاکستان ، رومن کتھولک چرچ اور پرسبیٹریرین چرچ آف پاکستان کی نمائیدگی نہیں۔ ان بڑے چرچوں کی قیادت کی عدم شمولیت سے کمیٹی کی سفارشات پر وسیع اتفاق رائے (consensus) پیدا کرنے میں شدید دشواری ہو سکتی ہے۔
کمیٹی کی سربراہی انسانی حقوق اور اقلیتوں کے امور کے وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑا کریں گے، جبکہ سابق ایم پی اے اور انسانی حقوق کی معروف وکیل مریم جیمز گل بھی اس کمیٹی کا حصہ ہیں۔ کمیٹی میں قانونی ماہرین، مذہبی علما، سرکاری افسران اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین شامل ہیں۔
مریم جیمز گل نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ "یہ تاریخی قدم ہے۔ میں گزشتہ 15 سال سے اس اصلاحاتی ایجنڈے کی وکالت کر رہی ہوں۔ وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑا کی قیادت اور ہمدردی پر ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ یہ اقدام کرسچن خواتین، بچوں اور کمزور طبقات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔"
حکومت کا کہنا ہے کہ کمیٹی جلد ہی اپنے اجلاسات شروع کر دے گی اور قانونی خامیوں کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ عملی سفارشات تیار کرے گی تاکہ کرسچن کمیونٹی کو قانونی وضاحت، وقار اور انصاف فراہم کیا جا سکے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کمیٹی نہ صرف کرسچن پرسنل لا کو جدید بنائے گی بلکہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ اس سے قبل بھی پنجاب حکومت نے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق مختلف اقدامات اٹھائے ہیں، جن میں مذہبی آزادی اور تحفظ کے قوانین شامل ہیں۔یہ اقدام پاکستان میں اقلیتوں کے لیے مثبت پیغام ہے اور امید کی جاتی ہے کہ کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد سے قانونی نظام مزید منصفانہ اور جامع بنے گا۔
مزید پڑھیں:ماریہ شہباز کیس:مسیحی قیادت کا اظہارِ تشویش، نظرثانی اپیل دائر کرنے کا اعلانمسیحی خاتون کی مسلمان مرد سے شادی قانونی قرار، والد کی درخواست خارج: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہپنجاب تحفظِ حقوقِ مذہبی اقلیت بل 2026: ایک اہم پیش رفت مگرپہلے۔۔۔
