ماریہ شہباز کیس:مسیحی قیادت کا اظہارِ تشویش، نظرثانی اپیل دائر کرنے کا اعلان

Church of Pakistan against FCC decision of Maria Shahbaz Case
Photo: Facebook


لاہور (6 اپریل 2026): چرچ آف پاکستان نے ماریہ شہباز کیس میں فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ کے حالیہ فیصلے پر گہری

 تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئینی، قانونی اور انسانی حقوق کے حوالے سے ایک سنگین معاملہ قرار دیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ملک بھر کی مسیحی برادری میں پائے جانے والے اضطراب اور بے چینی کے پیشِ نظر، چرچ آف پاکستان کے آرچ بشپ ڈاکٹر آزاد مارشل کی سربراہی میں لاہور میں ایک اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔

غیر معمولی بین المذاہب اتحاد اور مشاورت

وارث روڑ لاہور پر واقع رائیونڈ ڈایوسس چرچ آف پاکستان کے مرکزی دفتر میں  منعقدہ اس مشاورتی اجلاس میں مختلف مسیحی مکاتبِ فکر بشمول رومن کیتھولک، پریسبیٹیرین، چرچ آف پاکستان اور پینٹیکوسٹل چرچز کے قائدین نے شرکت کی۔ اجلاس میں سینیئر وکلاء، سیاست دانوں، میڈیا نمائندوں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے بھی شرکت کی تاکہ اس فیصلے کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے اور ایک مربوط لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔

شرکاء میں بشپ ڈاکٹر آزاد مارشل کے علاوہ چرچ آف انگلنیڈ کے سابقہ بشپ ڈاکٹر مائیکل نذیر علی، مشیل سیموئل، فادر جیمز چنن، ریورنڈ مجید ایبل، سینیٹر کامران مائیکل، ایم پی اے اعجاز آگسٹین، سیموئل پیارا اور دیگر مقتدر شخصیات شامل تھیں۔

فیصلے پر تحفظات اور قانونی سوالات

اجلاس کے دوران شرکاء نے ماریہ شہباز کیس کے تناظر میں کم عمر اقلیتی لڑکیوں کے تحفظ، جبری تبدیلیِ مذہب اور زبردستی شادیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ چرچ آف پاکستان کا موقف ہے کہ:

-مبینہ متاثرہ لڑکی کی عمر کے تعین میں قانونی ضابطوں کو نظر انداز کیا گیا۔

-بچوں کے تحفظ کے لیے موجود ریاستی قوانین پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا

-متاثرہ لڑکی کے بیان (رضامندی) کے دوران دباؤ یا کسی بھی قسم کے اثر و رسوخ کے پہلو کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔

چرچ آف پاکستان کا اعلامیہ

اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ:

"ایمان کبھی بھی جبر کا نتیجہ نہیں ہونا چاہیے، اور شادی کبھی بھی آزادانہ اور باخبر رضامندی کے بغیر نہیں ہونی چاہیے۔ نابالغوں کا تحفظ اور ہر انسان کی تذلیل سے بچاؤ نہ صرف آئینی ذمہ داری ہے بلکہ ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے۔"

مستقبل کا لائحہ عمل

چرچ کی قیادت اور قانونی ماہرین نے درج ذیل اقدامات پر اتفاق کیا ہے:

- عدالتی چارہ جوئی: فیصلے کے خلاف فوری طور پر عدالت عظمیٰ میں نظرثانی کی اپیل (Review Petition) دائر کی جائے گی۔

- حکومتی رابطہ: مسیحی برادری کے تحفظات سے آگاہ کرنے کے لیے متعلقہ سرکاری حکام اور اداروں سے باضابطہ رابطہ کیا جائے گا۔

عالمی آگاہی: انسانی حقوق اور اقلیتی حقوق کے تحفظ کے لیے قومی اور بین الاقوامی فورمز پر آواز اٹھائی جائے گی۔

حکومت اور عدلیہ سے مطالبات

چرچ آف پاکستان نے مطالبہ کیا کہ:

عدلیہ: نابالغ بچوں سے متعلقہ کیسز میں عمر کی تصدیق اور آزادانہ رضامندی کے لیے سخت ترین حفاظتی اقدامات اپنائے

قانون ساز ادارے: جبری تبدیلیِ مذہب اور کم عمری کی شادیوں کو روکنے کے لیے جامع قانون سازی کی جائے۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے: ایسے کیسز میں فوری، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں۔


اعلامیے کے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ چرچ آف پاکستان کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا تاکہ آئین کی روح کے مطابق تمام شہریوں کو مساوی انصاف مل سکے۔

مزید پڑھیں:

مسیحی خاتون کی مسلمان مرد سے شادی قانونی قرار، والد کی درخواست خارج: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ

ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے پر اقلیتی برادری کا رد عمل

پنجاب تحفظِ حقوقِ مذہبی اقلیت بل 2026: ایک اہم پیش رفت مگرپہلے۔۔۔

Web Desk

ہر نیوز انٹرنیٹ کی دُنیا میں ہر خبر کو اردوپڑھنے اور بولنے والوں کے لیے بروقت فراہم کرتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی