نیا قانون: بھارتی حکومت مذہبی اداروں کے اثاثے ضبط کر سکے گی۔ چرچ میں تشویش کی لہر

 

Catholic Bishop Conference of India with PM Modi
وزیر اعظم  مودی کتھولک بشپ کانفرس آف انڈیا کے ساتھ ایک تصویر

نئی دہلی (اردو نیوز) — بھارت کی مرکزی حکومت نے مارچ 2026 میں لوک سبھا میں فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ  ترمیمی  بل پیش کیا ہے جس کے تحت غیر ملکی امداد سے چلنے والے مذہبی اور فلاحی اداروں کی جائیدادوں پر حکومت کا براہ راست کنٹرول ممکن ہو سکے گا۔ مسیحی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ بل گرجا گھروں، سکولوں، ہسپتالوں اور چیریٹی اداروں کی جائیدادوں کو ہتھیانے کا راستہ ہموار کر رہا ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ بل صرف ایک تکنیکی ترمیم ہے جو غیر ملکی فنڈز سے بننے والی جائیدادوں کے انتظام میں موجود خامیوں کو دور کرے گی۔ جب کوئی ادارہ رجسٹریشن کھو دے، سرنڈر کر دے، مدت ختم ہو جائے یا معطل ہو جائے تو ایک نامزد اتھارٹی ان اثاثوں کا عارضی اور پھر مستقل انتظام سنبھال سکے گی۔ یہ اتھارٹی جائیدادوں کو سرکاری محکموں میں منتقل کر سکتی ہے یا انہیں فروخت کر کے رقم بھارت کے کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کرا سکتی ہے۔

چرچ اور فلاحی اداروں کی شدید مخالفت

کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈیا (CBCI)، نیشنل کونسل آف چرچز ان انڈیا (NCCI)، ایونجلیکل فیلوشپ آف انڈیا (EFI) اور دیگر مسیحی تنظیموں نے بل کی شدید مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بل آئین کے منافی ہے  ۔آئین مذہبی آزادی اور اداروں کے انتظام کا حق دیتا ہے 

این سی سی آئی کے جنرل سیکرٹری ریورنڈ اسیر ابراہیم نے بل کو "بنیادی طور پر غیر آئینی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اداروں کی  جائیداد بغیر کسی عدالتی عمل کے چھین لیتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ زیادہ تر کیسز میں رجسٹریشن کی منسوخی انتظامی غلطیوں یا چھوٹی تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے ہوتی ہے، نہ کہ کسی بڑے غلط استعمال کی۔

ای ایف آئی کے جنرل سیکرٹری ریورنڈ وجییش لال نے کہا کہ مسیحی ادارے احتساب اور شفافیت کے اصولوں سے کوئی اختلاف نہیں رکھتے، لیکن موجودہ ماحول میں یہ بل تشویش کا باعث ہے۔ انسانی حقوق کے ماہر جان ڈیال نے اسے "احتساب کی آڑ میں ضبطی" قرار دیا۔

رپورٹس کے مطابق 2014 سے اب تک ہزاروں اداروں  کی رجسٹریشن منسوخ ہو چکی ہے، جن میں مسیحی اداروں کا تناسب سے زیادہ ہے۔ 

 حکومت کا موقف اور بل کی صورتحال

وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ قومی سلامتی، عوامی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے اور  جبری مذہبی تبدیلی جیسے امور روکنے کے لیے ضروری ہے۔

بل کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں، مسلم تنظیموں اور سول سوسائٹی نے بھی احتجاج کیا۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے اسے "مطلق العنان، بدنیتی پر مبنی اور من مانی" قرار دیا۔

پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے 1 اپریل کو بل کو جولائی کے اگلے سیشن تک مؤخر کر دیا۔ تاہم چرچ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ محض عارضی ریلیف ہے، بل واپس نہیں لیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بل کو پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیجا جائے اور مشاورت کے بعد اس پر غور کیا جائے۔


Web Desk

ہر نیوز انٹرنیٹ کی دُنیا میں ہر خبر کو اردوپڑھنے اور بولنے والوں کے لیے بروقت فراہم کرتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی