![]() |
| Photo Courtsey: Vatican News |
پاکستانی کتھولک بشپس نے ویٹیکن میں پوپ لیو سے ملاقات کی ہے ۔ بشپس نے پاکستان میں چرچ کے مستقبل کے حوالے سے
نئی امید کا اظہار کیا ہے، جبکہ مسیحی برادری کو درپیش سنگین مسائل کو بھی اجاگر کیا۔ پاکستانی کیتھولک بشپس کے صدر اور حیدرآباد
کے بشپ سمسن شکاردین نے ویٹیکن نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ بشپس کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنا ہے۔ انہوں
نے بتایا کہ مسیحیوں کو پاکستان میں شدید امتیازی سلوک، توہین مذہب کے الزامات، زبردستی مذہب تبدیل کرنے، جبری شادیوں،
تشدد اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
کیتھولک بشپس
ہر پانچ سال بعد ویٹیکن کا دورہ کرتے ہیں اس
دوران وہ اپنے علاقوں کی صورتحال کی رپورٹ دیتے ہیں، پوپ اور اور دیگر احکام سے ملاقاتیں
کرتے ہیں اور سینٹ پیڑک میں عبادات میں شامل رہتے ہیں۔
بشپ سمسن شکاردین نے کہا کہ چیلنجز کے باوجود پاکستانی
چرچ کی چھوٹی اقلیت مضبوط ایمان کے ساتھ اپنے عقیدے پر قائم ہے۔ انہوں نے ویٹیکن کی
طرف سے حمایت اور رہنمائی پر شکریہ ادا کیا۔
یہ دورہ 11
سے 16 مئی 2026 تک جاری رہا، جس کے دوران بشپس نے مختلف ویٹیکن دفاتر کا دورہ کیا ۔
پاکستان میں کیتھولک چرچ اقلیت کے طور پر خدمات انجام
دے رہا ہے اور تعلیم، صحت اور سماجی کاموں میں اہم کردار ادا کررہا ہے مگر مذہبی آزادی
اور تحفظ کے حوالے سے مسلسل خطرات کا سامنا رہتا ہے
پاکستان میں کیتھولک چرچ ایک چھوٹی اقلیت کے طور پر موجود ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً تیرہ لاکھ کیتھولک مسیحی ہیں، جو ملک کی کل آبادی کا کم از کم ایک فیصد سے بھی کم حصہ ہیں۔ یہ چرچ برطانیوی دور میں مشنری سرگرمیوں کے ذریعے منظم طور پر قائم ہوا، خاص طور پر پنجاب اور سندھ میں، جہاں زیادہ تر کیتھولک برادری رہتی ہے۔
ملک میں دو
آرچ ڈائوسیز (کراچی اور لاہور) اور چھ دیگر ڈائوسیز (فیصل آباد، حیدرآباد، ملتان، اسلام
آباد-راولپنڈی اور کوئٹہ) ہیں۔ کیتھولک چرچ تعلیم، صحت اور سماجی خدمات کے شعبوں میں
اہم کردار ادا کر رہا ہے، جہاں سینکڑوں سکول، ہسپتال اور فلاحی ادارے چلائے جا رہے
ہیں جو نہ صرف مسیحی بلکہ دیگر مذہب کے بچوں
کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں۔ تاہم،
توہین مذہب کے قوانین، امتیازی سلوک، جبری تبدیلی مذہب اور معاشی مشکلات جیسی چیلنجز
کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی کیتھولک برادری قومی سطح پر تعمیرو
ترقی امن و ہم آہنگی، کے فروغ میں حصہ ڈال رہی ہے۔
