ارجنٹینا کے کروز شپ سے پھیلنے والا 'ہنٹا وائرس': عالمی ادارہ صحت کی وارننگ اور اہم حقائق
بیونس آئرس (نیوز ڈیسک): ارجنٹینا کے ساحل پر موجود ایک لگژری کروز شپ 'ایم وی ہونڈیئس' (MV Hondius) اس وقت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا جب وہاں 'ہنٹا وائرس' کے پراسرار پھیلاؤ کی تصدیق ہوئی۔ اس واقعے نے نہ صرف سیاحوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا بلکہ عالمی سطح پر صحت کے اداروں کو بھی الرٹ کر دیا ہے، کیونکہ عام طور پر چوہوں سے پھیلنے والا یہ وائرس اس بار انسانی رابطے کے ذریعے پھیلنے کی صلاحیت کے باعث خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔
کروز شپ کا واقعہ اور اینڈیز وائرس
ارجنٹینا کے اس کروز شپ پر ہنٹا وائرس کی ایک مخصوص قسم 'اینڈیز وائرس' (Andes Virus) کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ یہ قسم دیگر ہنٹا وائرسز سے اس لیے مختلف اور خطرناک ہے کیونکہ یہ دنیا کی واحد قسم ہے جو ایک انسان سے دوسرے انسان میں قریبی تعلق یا سانس کے ذریعے منتقل ہو سکتی ہے۔ جہاز پر سوار مسافروں میں علامات ظاہر ہونے کے بعد ارجنٹینا کے حکام نے فوری طور پر قرنطینہ اور طبی اقدامات نافذ کر دیے تاکہ اسے خشکی پر پھیلنے سے روکا جا سکے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کا موقف
عالمی ادارہ صحت (WHO) ہنٹا وائرس کو ایک سنگین صحت عامہ کا مسئلہ قرار دیتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق:
علاج کی عدم دستیابی: عالمی ادارہ صحت واضح کرتا ہے کہ ہنٹا وائرس کے لیے اب تک کوئی مخصوص علاج، اینٹی وائرل دوا یا ویکسین ایجاد نہیں ہو سکی ہے۔ مریضوں کو صرف علامات کے مطابق 'سپورٹیو کیئر' (جیسے آکسیجن اور آئی سی یو سپورٹ) فراہم کی جاتی ہے۔
اعلیٰ شرح اموات: ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار کے مطابق، ہنٹا وائرس پلمونری سنڈروم (HPS) میں مبتلا ہونے والے افراد میں شرح اموات 38 فیصد سے 50 فیصد تک ہو سکتی ہے، جو اسے انتہائی مہلک بناتی ہے۔
نگرانی کی ضرورت: ادارہ رکن ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ چوہوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے اور دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے پر توجہ دیں۔
ہنٹا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟
ڈبلیو ایچ او کی رپورٹس کے مطابق، زیادہ تر کیسز میں یہ وائرس چوہوں کے فضلے، پیشاب یا تھوک کے ذرات ہوا میں شامل ہونے اور پھر انسان کے سانس لینے سے پھیلتا ہے۔ تاہم، ارجنٹینا جیسے واقعات میں 'اینڈیز اسٹرین' کے باعث انسانی منتقلی کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔
ابتدائی علامات اور احتیاط
ہنٹا وائرس کی علامات میں تیز بخار، پٹھوں میں شدید درد، تھکن اور بعد ازاں سانس لینے میں شدید دشواری شامل ہے۔ ماہرین صحت کا مشورہ ہے کہ:
چوہوں کی موجودگی والی جگہوں پر صفائی کے دوران ماسک اور دستانوں کا استعمال لازمی کریں۔
کروز شپ یا بین الاقوامی سفر کے دوران اگر طبیعت بگڑے تو فوری طبی عملے کو مطلع کریں۔
کھانے پینے کی چیزوں کو چوہوں کی پہنچ سے مکمل محفوظ رکھیں۔
ارجنٹینا کا یہ واقعہ دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ بدلتے ہوئے ماحول اور سفر کی کثرت کے باعث وائرل بیماریاں کسی بھی وقت عالمی خطرہ بن سکتی ہیں، جس کے لیے مسلسل احتیاط اور تحقیق کی ضرورت ہے۔
ارجنٹینا کے کروز شپ پر ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد پاکستان میں صحت کے ماہرین نے الرٹ جاری کیا ہے اور حکومت سے بچاؤ کے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق پاکستان میں ہنٹا وائرس کا کوئی انسانی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔
