مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال: خطرناک بھی، مگر کیسے؟



 رات کے تقریباً گیارہ بجے لاہور کے ایک گھر میں اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ ارشد صاحب نے موبائل اٹھایا تو دوسری طرف ان کے بیٹے علی کی آواز تھی۔ "ابو! جلدی کریں، مجھے پیسوں کی ضرورت ہے۔ مسئلہ ہوگیا ہے۔ ابھی ایک لاکھ روپے اس نمبر پر بھیج دیں۔" ارشد صاحب گھبرا گئے۔ "کیا ہوا بیٹا؟ تم کہاں ہو؟" "ابو، میں ٹھیک ہوں، بس ابھی پیسے بھیج دیں۔ بعد میں بتاتا ہوں۔" آواز بالکل علی کی تھی۔ وہی لہجہ، وہی انداز، حتیٰ کہ وہی گھبراہٹ۔ ارشد صاحب نے زیادہ سوال کیے بغیر رقم منتقل کردی۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد دروازہ کھلا۔ علی گھر میں داخل ہوا۔ ارشد صاحب نے حیرت سے اسے دیکھا۔ "تم تو یہاں ہو؟" علی نے جواب دیا: "جی ابو، میں تو شام سے گھر پر تھا۔" ارشد صاحب کے ہاتھ سے موبائل تقریباً چھوٹ گیا۔ "لیکن ابھی تو تم نے مجھے فون کیا تھا!" علی نے موبائل دیکھا، پھر خاموشی سے بولا: "ابو۔۔۔ وہ میری آواز نہیں تھی۔" "تو پھر کس کی تھی؟" علی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ وہ آوازمصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تھی۔

 یہ شاید ایک کہانی ہے، لیکن اب یہ صرف کہانی نہیں رہی۔ مصنوعی ذہانت، جسے ہم عام طور پرAI کہتے ہیں، ہماری روزمرہ زندگی میں اتنی تیزی سے داخل ہو رہی ہے کہ چند سال پہلے جن چیزوں کو سائنس فکشن سمجھا جاتا تھا، وہ آج موبائل فون کی ایک ایپ میں دستیاب ہیں۔ ہم AI سے مضمون لکھوا رہے ہیں، تصاویر بنوا رہے ہیں، ویڈیوز تیار کر رہے ہیں، آوازیں نقل کر رہے ہیں، ترجمے کر رہے ہیں، کاروباری فیصلوں میں مدد لے رہے ہیں اور حتیٰ کہ کمپیوٹر پروگرام بھی بنوا رہے ہیں۔

 لیکن سوال یہ ہے: اگر مصنوعی ذہانت اتنی طاقتور ہوتی جارہی ہے تو کیا ہم اس طاقت کو استعمال کرنے کے لیے خود بھی اتنے ہی تیار ہیں؟ مسئلہ AI نہیں، بے احتیاط انسان بھی ہے مصنوعی ذہانت بذاتِ خود نہ اچھی ہے نہ بری۔ ایک ڈاکٹر کے لیے AI بیماری کی تشخیص میں مددگار ہوسکتی ہے۔ ایک طالب علم کے لیے استاد کی طرح کام کرسکتی ہے۔ ایک چھوٹے کاروبار کے مالک کے لیے مارکیٹنگ، حساب کتاب اور منصوبہ بندی آسان بنا سکتی ہے۔

 پاکستان جیسے ملک میں، جہاں وسائل محدود اور ماہر افراد ہر جگہ دستیاب نہیں، AI تعلیم، صحت، زراعت، کاروبار اور سرکاری خدمات میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔ لیکن یہی ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں ایک نیا ہتھیار بھی بن سکتی ہے۔ جعلی تصویر، جعلی ویڈیو، جعلی آواز، جعلی خبر اور جعلی شناخت—اب ان سب کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ حقیقت کے قریب بنایا جاسکتا ہے۔ 

پاکستان میں ڈیجیٹل بدسلوکی کے حوالے سے کام کرنے والی Digital Rights Foundation نے 2026 کی اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس کی ہیلپ لائن نے 18 ماہ کے دوران 5,000 سے زیادہ کیسز نمٹائے، جن میں ہیکنگ، deepfake abuse، بلیک میلنگ اور sextortion جیسے مسائل نمایاں تھے۔ 

 یہ اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ AI کا خطرہ مستقبل کی کوئی خیالی کہانی نہیں؛ اس کے کچھ اثرات ہمارے معاشرے میں آج ہی موجود ہیں۔  سب سے بڑا خطرہ: جو چیز جعلی ہے، وہ اصلی لگے پہلے جھوٹی خبر بنانے کے لیے ایک جھوٹا جملہ کافی تھا۔ پھر فوٹو ایڈیٹنگ نے جھوٹ کو تصویر دے دی۔ سوشل میڈیا نے اسے لاکھوں لوگوں تک پہنچا دیا۔ اب AI نے جھوٹ کو چہرہ، آواز اور ویڈیو بھی دے دی ہے۔ 

 سوچیے، اگر کسی سیاسی رہنما کی ایسی ویڈیو بن جائے جس میں وہ ایسی بات کہتا دکھائی دے جو اس نے کبھی کہی ہی نہیں؟ اگر کسی کاروباری شخص کی جعلی آواز میں اس کے ملازم کو رقم منتقل کرنے کا حکم دیا جائے؟ اگر کسی ماں کو اس کے بیٹے کی آواز میں فون آئے کہ "امی مجھے فوراً پیسے بھیجیں، میں مشکل میں ہوں"؟ یا کسی لڑکی کی جعلی تصویر یا ویڈیو بنا کر اسے بلیک میل کیا جائے؟ یہ سب اب تکنیکی طور پر ممکن ہے۔

 پاکستان میں deepfake اور ڈیجیٹل شناخت کے حوالے سے ماہرین پہلے ہی خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ قانونی ڈھانچہ AI سے پیدا ہونے والے بعض نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں۔ 

 AI کا ایک اور خطرہ: انسان کا سوچنا چھوڑ دینا

 لیکن AI کا خطرہ صرف فراڈ یا deepfake تک محدود نہیں۔ ایک خاموش خطرہ اس سے بھی بڑا ہے۔ انسان کا سوچنا چھوڑ دینا۔ اگر طالب علم ہر مضمون AI سے لکھوائے، تو شاید اس کا اسائنمنٹ خوبصورت ہوجائے، مگر اس کی اپنی سوچ کہاں جائے گی؟ اگر صحافی خبر کی تصدیق کیے بغیر AI سے حاصل شدہ خلاصہ شائع کردے تو غلطی کی ذمہ داری کس کی ہوگی؟ اگر ایک افسر کسی شہری کے بارے میں اہم فیصلہ AI کی دی ہوئی معلومات پر کر دے اور AI غلط ہو تو؟ 

 AI بہت اعتماد کے ساتھ غلط جواب بھی دے سکتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ مشین کبھی غلط ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ انسان مشین کی غلطی کو سچ سمجھ سکتا ہے۔ اور اب بحث صرف استعمال کی نہیں، رفتار کی بھی ہے دنیا میں اب ایک نئی بحث زور پکڑ رہی ہے: کیا مصنوعی ذہانت کی ترقی اتنی تیزی سے ہورہی ہے کہ انسان کے حفاظتی نظام اس کے پیچھے رہ گئے ہیں؟

 یہ بحث نئی نہیں۔ 2023 میں بھی ایک معروف کھلے خط کے ذریعے طاقتور AI نظاموں کی تربیت میں کم از کم چھ ماہ کے وقفے کی اپیل کی گئی تھی۔ لیکن 2026 میں یہ بحث ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ حالیہ دنوں میں Anthropic کے سربراہ Dario Amodei نے advanced AI کی ترقی کو کچھ حد تک سست کرنے اور حفاظتی اقدامات کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ AI کی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور حفاظتی نظام کو اس رفتار کے ساتھ چلنے کا موقع ملنا چاہیے۔

 OpenAI کے سربراہ Sam Altman نے بھی زیادہ مربوط حفاظتی اقدامات اور آزاد evaluators کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے، جبکہ Elon Musk سمیت دیگر معروف ٹیکنالوجی شخصیات بھی AI کے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ 

یہاں تک کہ چین میں بھی advanced AI کے ممکنہ خطرات، خاص طور پر autonomous AI agents کے حوالے سے حفاظتی اور ریگولیٹری اقدامات پر کام ہورہا ہے، اگرچہ چین کا نقطۂ نظر مکمل رفتار روکنے کے بجائے تیز ترقی کے ساتھ ضابطہ اور نگرانی پر زیادہ زور دیتا ہے۔ 

 یعنی دنیا کے سامنے سوال اب یہ نہیں رہا کہ: AI آئے گی یا نہیں؟ AI آچکی ہے۔ سوال یہ ہے: ہم اسے کتنی تیزی سے آگے جانے دیں اور اس کے لیے حفاظتی باڑ کتنی مضبوط بنائیں؟ لیکن AI کو روکنا بھی آسان نہیں یہاں ایک دوسرا مؤقف بھی ہے۔ اگر ایک ملک AI کی ترقی سست کردے اور دوسرا ملک اسے تیزی سے آگے بڑھاتا رہے تو عالمی طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان AI کی دوڑ اسی لیے محض ٹیکنالوجی کی دوڑ نہیں رہی؛ 

یہ معیشت، دفاع، سائبر سیکیورٹی اور عالمی اثر و رسوخ سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ اسی لیے بعض لوگ کہتے ہیں کہ AI کی رفتار کم کرنا عملی طور پر ممکن نہیں۔ دوسروں کا جواب ہے: رفتار کم کرنا ترقی روکنا نہیں۔ جس طرح ہوائی جہاز تیز رفتار ہونے کے باوجود اس کے لیے حفاظتی قوانین، پائلٹ کی تربیت اور ایئر ٹریفک کنٹرول ضروری ہیں، اسی طرح طاقتور AI کے لیے بھی حفاظتی نظام ضروری ہیں۔ اصل بحث شاید AI کو روکنے اور AI کو کھلا چھوڑ دینے کے درمیان نہیں ہونی چاہیے۔ اصل بحث یہ ہونی چاہیے کہ: AI جتنی تیزی سے طاقتور ہورہی ہے، کیا ہماری ذمہ داری، قانون اور احتیاط بھی اتنی ہی تیزی سے بڑھ رہے ہیں؟

 یورپ نے راستہ دکھانا شروع کردیا دنیا کے مختلف حصے AI کے لیے قانونی فریم ورک بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کا AI Act یکم اگست 2024 کو نافذ ہوا اور اس کے اہم حصے 2 اگست 2026 سے قابلِ اطلاق ہوگئے، اگرچہ بعض دفعات کے لیے مختلف ٹائم لائنز ہیں

 اس کا بنیادی تصور یہی ہے کہ ہر AI استعمال ایک جیسا نہیں۔ ایک AI جو آپ کو کھانے کی ترکیب بتاتی ہے اور ایک AI جو بھرتی، قرض، صحت، شناخت یا بنیادی حقوق سے متعلق فیصلہ کرنے میں استعمال ہوتی ہے، ان دونوں کا خطرہ ایک جیسا نہیں۔ لہٰذا خطرے کے مطابق قوانین اور نگرانی کی ضرورت ہے۔  یہی اصول پاکستان کے لیے بھی اہم ہوسکتا ہے۔ 

 پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟

 پاکستان کو AI سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ ہمیں AI کے لیے تیار ہونے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے چند اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے، عوام میں AI literacy پیدا کی جائے۔ لوگوں کو یہ سمجھایا جائے کہ تصویر، ویڈیو یا آواز کا حقیقی نظر آنا اس کے حقیقی ہونے کی ضمانت نہیں۔ 

 دوسرا، اسکولوں اور جامعات میں AI کے استعمال کے ساتھ تنقیدی سوچ اور fact-checking کو بھی تعلیم کا حصہ بنایا جائے۔ تیسرا، deepfake، voice cloning، شناخت کی چوری اور AI-based fraud کے خلاف واضح قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔ چوتھا، حساس شعبوں میں AI کے استعمال کے لیے انسانی نگرانی لازمی ہو۔

 اور پانچواں، پاکستان کو عالمی سطح پر ہونے والی AI governance کی بحث میں صرف صارف کے طور پر نہیں بلکہ پالیسی ساز اور شریک ملک کے طور پر شامل ہونا چاہیے۔ 

 واپس ارشد صاحب کے گھر چلتے ہیں چند دن بعد ارشد صاحب نے بیٹے سے کہا: "علی، اب اگر تمہاری آواز میں مجھے فون آئے تو میں فوراً پیسے نہیں بھیجوں گا۔" علی نے پوچھا: "پھر کیا کریں گے؟" ارشد صاحب مسکرائے: "تم سے ایک ایسا سوال پوچھوں گا جس کا جواب صرف میرا بیٹا جانتا ہوگا۔" علی ہنس پڑا۔ "اور اگر وہ میری شکل بھی بنا لیں؟" ارشد صاحب نے جواب دیا: "پھر تمہیں ویڈیو کال کروں گا۔" علی نے کہا: "اور اگر وہ ویڈیو بھی بنا لیں؟" ارشد صاحب کچھ لمحے خاموش رہے۔ پھر بولے: "پھر میں اپنی عقل استعمال کروں گا۔" شاید یہی وہ چیز ہے جسے ہمیں AI کے دور میں سب سے زیادہ محفوظ رکھنا ہے۔ 

 اپنی عقل۔ مصنوعی ذہانت ہماری ذہانت کا متبادل نہیں ہونی چاہیے۔ وہ ہماری مددگار بن سکتی ہے، استاد بن سکتی ہے، معاون بن سکتی ہے، لیکن اگر ہم نے سوال کرنا، تحقیق کرنا، تصدیق کرنا اور خود سوچنا چھوڑ دیا تو خطرہ مصنوعی ذہانت سے زیادہ ہماری اپنی بے احتیاطی بن جائے گا۔ دنیا آج AI کی رفتار پر بحث کررہی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں اسے سست کیا جائے۔ کچھ کہتے ہیں اسے روکا نہیں جاسکتا۔ کچھ کہتے ہیں کہ قانون پہلے آئے اور ٹیکنالوجی بعد میں۔ لیکن شاید عام انسان کے لیے اس وقت سب سے اہم اصول بہت سادہ ہے: AI سے خوف نہ کھائیں، مگر AI پر آنکھیں بند کرکے بھروسہ بھی نہ کریں۔ کیونکہ آنے والے وقت میں سب سے خطرناک جھوٹ وہ نہیں ہوگا جو جھوٹا دکھائی دے۔ سب سے خطرناک جھوٹ وہ ہوگا جو بالکل سچ دکھائی دے۔ 

Web Desk

ہر نیوز انٹرنیٹ کی دُنیا میں ہر خبر کو اردوپڑھنے اور بولنے والوں کے لیے بروقت فراہم کرتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی