آرچ بشپ آف کینٹربری نے حافظ طاہر اشرفی سے اعزاز واپس لے لیا

Archbishop of Canterbury withdraw award to Tahir Ashrafi



لندن: آرچ بشپ آف کینٹربری ڈیم سارہ ملالی کے دفتر (لیمبتھ پیلس) نے پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کو دیا گیا بین المذاہب ہم آہنگی کا اعزاز واپس لے لیا ہے۔ یہ اعزاز 11 ستمبر 2026 کو، یعنی 11 ستمبر 2001 کے حملوں کی 25ویں برسی کے موقع پر لیمبتھ پیلس میں منعقدہ تقریب میں ڈیم سارہ ملالی نے خود پیش کیا تھا۔


اعزاز کا نام ہیوبرٹ والٹر ایوارڈ فار ریکنسیلی ایشن اینڈ انٹر فیتھ کوآپریشن تھا، جو پاکستان میں مذہبی رواداری، بین المذاہب تعاون اور اقلیتوں (خاص طور پر مسیحی برادری) کے حقوق کے تحفظ میں ان کی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا تھا۔

تاہم ایوارڈ دینے کے بعد شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب سنہ 2007 کے ان بیانات سامنے آئے جن میں حافظ طاہر اشرفی نے القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کو ’روس، امریکہ اور برطانیہ کے خلاف اسلام کے لیے لڑنے والا مجاہد‘ قرار دیا تھا اور انہیں ’سیف اللہ‘ (اللہ کی تلوار) کا لقب دینے کی بات کی تھی۔ لیمبتھ پیلس نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’طاہر اشرفی کے بعض ایسے تبصرے سامنے آئے ہیں جن کے بعد ہمیں اس اعزاز پر نظرثانی کرنا پڑی، اور اب ہم تصدیق کرتے ہیں کہ یہ اعزاز واپس لے لیا گیا ہے۔ ہم نے امام اشرفی کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔‘


چند روز قبل چرچ آف پاکستان کی جانب سے بھی مولانا طاہر اشرفی کو گلوبل پیس ایورڈ سے نواز گیا ہے ۔
 حافظ طاہر اشرفی نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ان کے 2007 کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تبصرے سلمان رشدی کو نائٹ ہڈ دیے جانے پر مسلمانوں میں پائی جانے والی ناراضی کے تناظر میں کیے گئے تھے اور ان کا مقصد اسامہ بن لادن کی حمایت نہیں تھا۔ ان کے ترجمان نے بھی کہا کہ ان کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف طویل ریکارڈ کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ اسامہ بن لادن کو 11 ستمبر 2001 کے حملوں کا مرکزی منصوبہ ساز سمجھا جاتا ہے جن میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی سلسلے میں مولا نا طاہر اشرفی نے ایک وضاحتی بیان بھی جاری کیا 


Web Desk

ہر نیوز انٹرنیٹ کی دُنیا میں ہر خبر کو اردوپڑھنے اور بولنے والوں کے لیے بروقت فراہم کرتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی