18 سال سے کم عمربچی سے شادی کرنے پر سزاملے گی : پنجاب میں قانون پاس

PUNJAB CHILD MARRIAGE RESTRAINT ACT 2025



لاہور : پنجاب میں کم عمری کی شادیوں کے خاتمے کی طرف ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے صوبائی اسمبلی نے پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس قانون میں 1929 کے پرانے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ میں ترمیم کر کے شادی کی کم از کم عمر دونوں جنسوں (لڑکے اور لڑکی) کے لیے 18 سال مقرر کردی گئی ہے ۔ پرانے قانون کے تحت لڑکیوں کی شادی کی عمر 16 سال تھی، جو اب ختم ہو جائے گی۔حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون بچوں کے استحصال، صحت کے مسائل اور تعلیم سے محرومی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے، جبکہ کچھ اراکین نے بل پر تحفظات بھی ظاہر کیے تھے۔بل کے مطابق کم عمری کی شادی کو قابل گرفت، ناقابل ضمانت اور ناقابل صلح جرم قرار دیا گیا ہے۔ عدالتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایسے مقدمات 90 دن کے اندر نمٹائے جائیں۔اس ایکٹ/بل کے نمایاں نقاط
  • شادی کی کم از کم عمر: لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے 18 سال لازمی۔
  • نکاح کے وقت دونوں فریقوں کی عمر 18 سال ہونا ضروری
  • 18 سال سے کم عمر کے بچے/بچی سے شادی کرنے والے شخص پر: 2 سے 3 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ۔
  • کم عمری کی شادی کے بعد رہائش یا ازدواجی تعلقات (چائلڈ ابیوز): 5 سے 7 سال قید اور کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ۔
  • نکاح رجسٹر کرنے والے (نکاح خواں/رجسٹرار) پر: 1 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ (لائسنس بھی منسوخ ہو سکتا ہے)۔
  • والدین، سرپرست یا شادی میں معاونت کرنے والوں پر: 2 سے 3 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ۔
  • اگر بچوں کو دوسرے صوبے یا جگہ لے جا کر شادی کرائی جائے: 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ
  • دیگر اہم شقیں:
  • تمام جرائم ناقابل ضمانت اور ناقابل صلح ہوں گے (یعنی راضی نامہ نہیں ہو سکے گا)۔
  • نکاح رجسٹرار کو شادی سے پہلے CNIC کی تصدیق لازمی۔
  • عدالت شادی روکنے کا حکم امتناعی جاری کر سکتی ہے۔
  • مقصد: بچوں کے حقوق کا تحفظ، صنفی مساوات، تعلیم اور صحت کو فروغ دینا۔
مزید پڑھیں

Web Desk

ہر نیوز انٹرنیٹ کی دُنیا میں ہر خبر کو اردوپڑھنے اور بولنے والوں کے لیے بروقت فراہم کرتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی